قسمت کا مطلب ہے، وہ چیزیں جو آپ کے ساتھ بغیر کسی واضح وجہ کے ہوتی ہیں ۔ اچھی قسمت یا "بری قسمت ۔۔
مثال کے طور پر، آپ سڑک پر چل رہے ہیں اور اچانک زمین پر ایک ہزار روپے کا نوٹ مل جاتا ہے ۔ یہ قسمت ہے ۔ آپ نے کچھ نہیں کیا، یہ محض اتفاق تھا ۔۔
یا پھر آپ ایک گاڑی کے نیچے آنے سے بال بال بچ گئے ۔ اگر آپ ایک سیکنڈ پہلے یا بعد میں وہاں سے گزرتے تو حادثہ ہو جاتا ۔ یہ بھی قسمت ہے ۔۔
قسمت کا تصور بنیادی طور پر randomness یعنی بے ترتیبی پر مبنی ہے ۔ اس میں کوئی پلان نہیں، کوئی مقصد نہیں، محض اتفاق ہے ۔۔۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ ہے، کیا واقعی سب کچھ اتفاقی ہوتا ہے؟ یا ہر چیز کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے، لیکن ہم اسے سمجھ نہیں پاتے؟
اس کے گرد اپ کے سوالات ہیں اس پر گفتگو کرتے ہیں ۔تقدیر کا مطلب ہے، وہ چیزیں جو پہلے سے طے شدہ ہیں اور ہونی ہی ہیں، چاہے آپ کچھ بھی کریں ۔۔
یونانی تراسیدیوں میں تقدیر کا بہت مضبوط تصور ہے ۔ Oedipus کی کہانی ایک مشہور مثال ہے ۔ ایک پیشین گوئی تھی کہ Oedipus اپنے باپ کو مارے گا اور اپنی ماں سے شادی کرے گا ۔ اس سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن پھر بھی یہ ہوا ۔ یہ تقدیر ہے ۔ ناقابل تبدیل ۔۔
اسلام میں تقدیر کا تصور بہت گہرا ہے ۔ "جو اللہ نے لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا"۔ لیکن یہاں ایک پیچیدگی ہے جس پر ہم بعد میں آئیں گے: اگر سب کچھ پہلے سے لکھا ہے، تو پھر انسانی کوشش کا کیا مطلب؟
ہندو مت میں Karma اور reincarnation کا تصور ہے ۔ آپ کی اس زندگی کی حالت آپ کی پچھلی زندگیوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی تقدیر ہے، لیکن اس میں آپ کا اپنا کردار بھی ہے ۔۔نصیب اردو میں عربی لفظ نصیب سے آیا ہے جس کا مطلب حصہ ہے ۔ یہ قسمت اور تقدیر کے درمیان کی چیز ہے ۔
جب ہم کہتے ہیں یہ اس کے نصیب میں نہیں تھا تو ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ چیز اس کے حصے میں نہیں آئی، حالانکہ شاید کوشش کی گئی ہو ۔۔
نصیب میں تھوڑی سی قبولیت یعنی acceptance کا عنصر ہے ۔ جو ہوا وہ نصیب تھا،کہنے سے ایک طرح کا سکون ملتا ہے، ایک closure ملتا ہے ۔۔اب دعا بالکل مختلف چیز ہے ۔ دعا میں آپ ایک اعلیٰ طاقت خدا سے کچھ مانگ رہے ہیں ۔یہ ایک active عمل ہے، passive نہیں ۔
دعا کا تصور یہ فرض کرتا ہے کہ
کوئی خدا ہے جو سن رہا ہے
وہ خدا مداخلت کر سکتا ہے
آپ کی درخواست سے فرق پڑ سکتا ہے
لیکن یہاں بھی ایک paradox ہے ۔ اگر خدا سب کچھ جانتا ہے اور سب کچھ پہلے سے طے کر چکا ہے، تو دعا کا کیا فائدہ؟ کیا دعا خدا کا ذہن بدل سکتی ہے؟
یہ سوالات بہت پیچیدہ ہیں اور ہم ان پر تفصیل سے بات کریں گے ۔۔
اور ان کے جوابات بھی ایک نہیں ہیں مختلف ہیں فلسفہ مختلف جواب دے گا مذہب مختلف جواب دے گا سائنس مختلف جواب دے گا میں سارے نظریات اپ کے سامنے رکھ دوں گا اپ جس پر قائل ہوں وہ قبول کر لیں ۔۔اب ہم وقت میں پیچھے جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مختلف تہذیبوں نے ان تصورات کے بارے میں کیا سوچا ۔۔
قدیم یونان میں Moirai اور تقدیر کی دیویاں ہوتی تھی ۔ یعنی یونانی mythology میں تین دیویاں تھیں جنہیں Moirai یا Fates کہا جاتا تھا ۔۔
جن کے نام مندرجہ زیل ہیں
Clotho وہ زندگی کا دھاگہ کاٹتی تھی ۔
Lachesis - وہ اس دھاگے کی لمبائی ناپتی تھی ۔
Atropos - وہ اس دھاگے کو کاٹتی تھی، یعنی موت ۔
یہ دیویاں اتنی طاقتور تھیں کہ خود Zeus (سب سے بڑا خدا) بھی ان کے فیصلوں کو نہیں بدل سکتا تھا ۔۔
یونانی سوچ میں، تقدیر سب سے اوپر تھی ۔ انسان، خدا، سب اس کے تابع ۔ یہ بہت pessimistic نقطہ نظر تھا ۔۔
لیکن ساتھ ہی، یونانیوں نے Free Will کا تصور بھی دیا ۔ Socrates نے کہا کہ انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ یہ تضاد آج تک حل نہیں ہوا ۔۔اسی طرح قدیم رومن، میں ایک دیوی تھی جس کا نام تھا Fortuna کی دیوی، اب یہ رومن لوگوں میں Fortuna نامی ایک دیوی جو تھی یہ قسمت اور اتفاق کی دیوی تھی ۔ اس کی تصویر میں اسے ایک پہیہ. جسے انگریزی میں ہم wheel کہتے ہیں کے ساتھ دکھایا جاتا تھا ۔۔
یہ پہیہ گھومتا رہتا تھا ۔ کبھی آپ اوپر (خوش قسمت)، کبھی نیچے (بدقسمت) ۔ کوئی کنٹرول نہیں تھا ۔
Fortuna's Wheel کا تصور بہت مشہور ہوا ۔ اس نے یورپ کی ادب اور فن پر بعد میں گہرا اثر ڈالا ۔۔اسی طرح ہم اگر مشرقی خطے میں احیں جو قدیم ہندوستان کہلایا جاتا ہے ۔ یہاں پر کرما اور Dharma جیسے تصورات تھے ۔ اب یہ
ہندو فلسفے میں Karma کا تصور بہت مرکزی ہے. ۔
Karma کا مطلب "عمل" ہے ۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہے ۔ جو آپ کرتے ہیں، اس کا پھل آپ کو ملتا ہے ۔ اس زندگی میں یا اگلی میں ۔۔
یہ تقدیر سے مختلف ہے کیونکہ یہ آپ کے اپنے اعمال پر منحصر ہے ۔ لیکن یہ قسمت سے بھی مختلف ہے کیونکہ یہ random نہیں بلکہ cause-effect پر مبنی ہے ۔۔
Dharma کا مطلب "فرض" یا "صحیح راستہ" ہے ۔ ہر شخص کا اپنا Dharma ہے جو اس
کی ذات، عمر، اور حالات سے طے ہوتا ہے ۔
Bhagavad Gita میں Krishna کہتے ہیں
"تمہارا حق صرف عمل پر ہے، پھل پر نہیں۔"
یعنی تم اپنا فرض کرو، نتیجہ کی فکر نہ کرو ۔۔
یہ ایک بہت balanced نقطہ نظر ہے، نہ مکمل determinism، نہ مکمل free will ۔۔قدیم چین بھی یہی فلسفہء پایا جاتا ہے جسے Tao کہتے ہیں یہ ہم آہنگی دیتا ہے ۔
مطلب یہ ہے کہ جو چینی فلسفے میں Tao کا تصور ہے، کائنات کا فطری بہاؤ ۔۔
Taoism کہتا ہے کہ ہر چیز اپنے natural path پر چل رہی ہے ۔ اگر آپ اس بہاؤ کے ساتھ چلیں (Wu Wei"نہ کرنے کا عمل")، تو سب کچھ آسان ہو جاتا ہے ۔
اگر آپ اس کے خلاف جائیں، تو تکلیف ہوتی ہے ۔۔
I Ching (Book of Changes) میں divination
کا نظام ہے جو مستقبل دیکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن اس کا مقصد "مقدر کو جاننا" نہیں بلکہ "فطری بہاؤ کو سمجھنا" ہے ۔۔
Confucianism
(کنفیوشس کا فلسفہ) تھوڑا مختلف ہے ۔ یہ کہتا ہے کہ آپ کا مقدر آپ کے اعمال سے بنتا ہے، خاص طور پر آپ کی اخلاقی زندگی سے ۔۔عیسائیت میں بھی یہ سوالات بہت اہم رہے ہیں ۔۔
St. Augustine نے Predestination کا نظریہ دیا تھا ۔ خدا نے پہلے سے فیصلہ کیا ہے کہ کون نجات پائے گا اور کون نہیں ۔
بعد میں John Calvin نے اس کو مزید سخت بنایا تھا ۔ ان کے مطابق، Double Predestination ہے یعنی خدا نے کچھ لوگوں کو جنت کے لیے اور کچھ کو جہنم کے لیے پہلے سے چن لیا ہے ۔۔
یہ بہت controversial نظریہ تھا ۔۔لھر اسکے بعد
Arminians نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ انسان کو اختیار ہے اور وہ خدا کی نجات کو قبول یا رد کر سکتا ہے ۔۔
کیتھولک چرچ نے ایک middle path اختیار کیا، خدا کی مشیت اور انسانی اختیار دونوں ہیں ۔۔
اور دعا کے بارے میں عیسائیت میں بھی بہت زور ہے ۔
Jesus
نے کہا، جو مانگو تو تمہیں دیا جائے گا ۔۔
لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا
میری نہیں، تیری مرضی پوری ہو ۔۔بدھ مت کا نقطہ نظر بہت منفرد ہے ۔۔
یہاں کوئی خدا نہیں جو تقدیر لکھے ۔ کوئی خالق نہیں، کوئی مقدر نہیں ۔۔
صرف Karma ہے عمل اور ردعمل کا قانون ۔۔
Buddha نے کہا
"تمہارے اعمال تمہارے مستقبل کو تشکیل دیتے ہیں۔"
یہ وہی purely cause-effect system ہے جو ہندوازم میں تھا ۔۔
انہوں نے یہ کہا کہ
اور دعا کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ کوئی سننے والا نہیں۔ البتہ meditation اور
mindfulness سے آپ اپنے Karma کو سمجھ سکتے ہیں اور بہتر بنا سکتے ہیں ۔۔اسلام کی بات کریں تو
اسلامی عقیدے میں تقدیر یعنی Qadr کا بہت اہم مقام ہے ۔ یہ ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک ہے ۔۔
اللہ نے سب کچھ پہلے سے لکھ دیا ہے ۔۔
Lauh-e-Mahfooz
(محفوظ تختی) پر ہر چیز لکھی ہے جو ہونے والی ہے ۔۔
لیکن ساتھ ہی، اسلام میں انسانی اختیار Free Will کا بھی تصور ہے ۔ انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ روز قیامت میں جوابدہی ہوگی ۔
یہ دونوں کیسے ایک ساتھ ہو سکتے ہیں؟
یہ سوال صدیوں سے مسلمان علماء اور فلسفیوں کو الجھا رہا ہے ۔۔Mu'tazilites
نے کہا کہ انسان کو مکمل اختیار ہے، ورنہ اللہ کا عدل قائم نہیں رہتا ۔۔
Ash'arites
نے کہا کہ اللہ کی مشیت سب پر حاوی ہے، انسانی اختیار محدود ہے ۔۔
Maturidis
نے دونوں کے درمیان کا راستہ تلاش کیا ۔۔
اور دعا کے بارے میں اسلام میں بہت زور ہے ۔۔
حدیث میں زکر ملتا ہے آتا ہے، کہ دعا عبادت کا مغز ہے ۔اور دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے ۔
لیکن پھر سوال یہ ہے اگر تقدیر پہلے سے لکھی ہے، تو دعا کیسے اسے بدل سکتی ہے؟
علماء نے اس کا جواب یہ دیا،
تقدیر دو قسم کی ہے ۔۔
Mubram (حتمی) جو بالکل طے شدہ ہے ۔
Mu'allaq (معلق) جو کچھ شرائط پر منحصر ہے، جیسے دعا ۔
یعنی دعا خود تقدیر کا حصہ ہے ۔ اللہ نے پہلے سے لکھا ہے کہ "فلاں شخص دعا کرے گا اور اس کی دعا قبول ہوگی ۔۔اب ہم فلسفے کی سب سے پرانی اور سب سے اہم بحث کی طرف آتے ہیں ۔۔
Determinism
سب کچھ طے شدہ ہے
Determinism کہتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز cause اور effect کے قانون پر چل رہی ہے ۔ ہر واقعہ پچھلے واقعات کا لازمی نتیجہ ہے ۔۔
اگر آپ کائنات کی ابتدائی حالت جانتے ہوں اور تمام قوانین جانتے ہوں، تو آپ ہر چیز کی پیشین گوئی کر سکتے ہیں ماضی سے لے کر مستقبل تک ۔۔اس پر
Laplace نامی ایک فرانسیسی ریاضی دان نے 18ویں صدی میں کہا تھا
اگر کوئی ذہن ہو جو کائنات کے ہر ایٹم کی حالت اور حرکت جانتا ہو، تو وہ ماضی اور مستقبل دونوں کی مکمل تصویر دیکھ سکتا ہے ۔۔
یہ لاء
یہ Laplace's Demon کہلاتا ہے ۔۔
سرچ کر سکتے ہیں ۔
اگر Determinism صحیح ہے، تو Free Will ایک illusion ہے ۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ فیصلے کر رہے ہیں، لیکن درحقیقت آپ کے دماغ میں ہونے والے chemical اور electrical processes پہلے سے طے شدہ ہیں ۔۔
Libertarian Free Will
انسان آزاد ہے
اس کے مقابلے میں، Libertarian Free Will کہتا ہے کہ انسان کے پاس حقیقی اختیار ہے ۔۔
ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں ۔ ہم agents ہیں، نہ کہ محض puppets ۔۔Immanuel Kant
نے کہا تھا کہ اگر Free Will نہیں تو اخلاقیات کا کوئی مطلب نہیں ۔ ہم کسی کو کیسے ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں اگر اس کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں تھا؟
Jean-Paul Sartre نے کہا
"انسان آزادی پر محکوم ہے ۔"
یعنی آپ کو فیصلے کرنے ہی پڑتے ہیں، چاہے آپ چاہیں یا نہ چاہیں ۔۔
Compatibilism:
دونوں ایک ساتھ
پھر تیسرا راستہ ہے
Compatibilism ۔
یہ کہتا ہے کہ Determinism اور Free Will دونوں ایک ساتھ ہو سکتے ہیں ۔۔
ہاں، کائنات deterministic ہے ۔ لیکن جب آپ اپنی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں (بغیر کسی بیرونی جبر کے)، تو یہ Free Will ہے ۔۔
David Hume نے کہا
آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے اعمال کی کوئی وجہ نہیں ۔ بلکہ یہ ہے کہ وجہ آپ کی اپنی خواہشات اور فیصلے ہیں ۔۔
Daniel Dennett نامی جدید فلسفی نے اس کو مزید develop کیا ۔ ان کے مطابق،
Free Will ایک real phenomenon ہے جو evolution کے ذریعے پیدا ہوا ۔
Hard Determinism کوئی ذمہ داری نہیں ۔۔۔کچھ فلسفی Hard Determinism کے قائل ہیں ۔۔
یہ کہتا ہے کہ نہ صرف ہمارے اعمال طے شدہ ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔۔
Galen Strawson نے کہا
آپ اپنی شخصیت، اپنی خواہشات، اپنے دماغ کی ساخت کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ یہ سب آپ کی genetics اور environment کا نتیجہ ہیں ۔ تو پھر آپ اپنے اعمال کے لیے کیسے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟
یہ بہت disturbing نتیجہ ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ نہ سزا منصفانہ ہے، نہ انعام مُنصف ۔۔پہلی کیس اسٹڈی
ایک قاتل کا دماغ سن
2000 میں، امریکہ میں ایک شخص Herbert Weinstein نے اپنی بیوی کو قتل کیا
Court میں، اس کے وکیل نے کہا، "میرا موکل ذمہ دار نہیں ۔ اس کے دماغ میں ایک tumor تھا جو frontal lobe کو دبا رہا تھا ۔ یہ حصہ impulse control اور اخلاقی فیصلوں کے لیے ضروری ہے۔ Tumor کی وجہ سے اس کا دماغ صحیح کام نہیں کر رہا تھا۔"
Brain scan دکھایا گیا جس میں tumor واضح تھا ۔۔
یہ ایک دلچسپ case تھا ۔ کیا Weinstein ذمہ دار تھا؟
اگر اس کے دماغ کی ساخت
(جس پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں)
نے اس کا رویہ طے کیا، تو کیا ہم اسے مجرم کہہ سکتے ہیں؟؟
آخر میں court نے manslaughter
(غیر ارادی قتل) کا فیصلہ دیا، murder کا نہیں۔ کم سزا ملی ۔۔
لیکن یہ سوال باقی رہا، اگر دماغ میں tumor ذمہ داری کم کر سکتا ہے، تو پھر دماغ کی دوسری خرابیاں کیا کریں؟ جیسے depression, ADHD, personality disorders؟
اور اگر ہم اس logic کو آگے لے جائیں، تو ہر شخص کا دماغ کچھ نہ کچھ unique ہے ۔ کچھ لوگوں میں serotonin کم ہے، کچھ میں testosterone زیادہ ۔ یہ سب ان کے رویے کو affect کرتے ہیں ۔۔
تو پھر کہاں رکیں؟
کہاں Free Will ختم ہوتی ہے اور Determinism شروع ہوتی ہے؟