ذات کا قتل عمد : مصلحت یا کچھ اور ۔۔۔؟
ذات کا قتل عمد : مصلحت یا کچھ اور ۔۔۔؟
کون زیادہ بدنصیب ہے؟ وہ جو اڑتے ہوئے شکاری کا نشانہ بن جائے، یا وہ جو ایک خوبصورت قید خانے کی زینت بن کر اپنی پرواز کو گناہ سمجھنے لگے؟
چلیے اک منظر دیکھئیے ۔ مگر وہ منظر کیا ہے ، جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے اس وجود کو ۔۔۔
جو کہ نیلے آسمان کی وسعتوں میں رقص کرتا ہو، جس کے پروں کی تھرک سے فضائیں بیدار ہوا کرتی ہوں اور پرندے اس کی رونق سے چہچہاتے ہوں، تو جب وہ پرندہ کسی ایسے سنہرے حصار کا قیدی بن جائے کہ جس کی شفافیت ہی اس کا سب سے بڑا دھوکہ ہوگی۔ اور پنجرہ بھی ایسا کہ وہ کوئی آہنی دیوار نہ ہوگی، بلکہ ایک ایسا سحر ہوگا جو تحفظ کے لبادے میں لپٹی ہوئی خاموش موت کی صدا لیے ہوگا۔ وہاں زندگی تو ہوگی، مگر سانسیں لینے کے لیے فضا میسر نہ ہوگی۔ پانی تو ہوگا، مگر پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ صرف تڑپ کے ذخیرے کے لیے۔۔
اور وہ پرندہ جب قید کی نذر ہو جائے گا تو قید خانے میں اس کی صورتحال کیا ہوگی، اس کی عکاسی ان سلاخوں سے ہوگی جو اس کی آنکھوں کے سامنے اس طرح تننے لگیں گی کہ افق کا ہر رنگ ایک زخم بن کر ابھرے گا۔ گویا سلاخوں سے باہر پانی کا حوض موجود ہوگا اور وہ قید پرندہ مارے پیاس کے اس حوض کو دیکھ کر پھڑپھڑائے گا۔ اسے اس حصار میں اس طرح جڑا جائے گا جیسے کسی شاہکار میں بے جان نگینہ جڑ دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اس کی پرواز کو کسی نے باہر سے تو چھینا نہیں ہوگا، بلکہ اسے ایک ایسی "سجاوٹ" میں تبدیل کر دیا جائے گا جہاں اڑنے کے لیے پر پھڑپھڑانا بھی بے ادبی اور اڑنا محض ایک بھولی بسری داستان بن کر رہ جائے گا۔
جب پرندہ اس قید کا باسی بن جائے گا اور اس قید میں رہنے لگے گا، تو اس کی روح کے اندر ایک ایسا ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہو جائے گا جس کی آواز باہر سنائی نہیں دے گی۔ وہ جب بھی اپنے اندر کی اڑان کو محسوس کرنے کی کوشش کرے گا، اس کا وجود کانچ کی کرچیوں کی مانند بکھرنے لگے گا۔ یہ کرچیاں اس کے اپنے ہی سینے میں پیوست ہو کر اسے لہولہان کر دیں گی، مگر اسے سلیقے سے بیٹھنے کا ایسا ڈھنگ سکھایا گیا ہوگا کہ وہ ان کرچیوں پر بھی خاموشی سے براجمان رہے گا۔ اس کا ہر لمحہ، ہر سانس ایک ایسا ذبیحہ ہوگا کہ جس میں چھری نہیں، بلکہ مصلحت کی سست رفتار کاٹ ہوگی۔
یوں رات کے پچھلے پہر، جب کائنات اپنی تنہائی کا نوحہ پڑھے گی اور چاند اس کے سر پر آ کر رک جائے گا، تو اس پرندے کے اندر وہ قدیم سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگے گا جو کبھی اس کی اڑان کا نام تھا۔ وہ اپنی ساکت آنکھوں سے اس چاند کی ٹھنڈک کو تو چھونا چاہے گا مگر اس کا وجود مصلحتوں کے اس بوجھ تلے دبا ہوگا اور اس کی آنکھوں سے پانی کے بجائے لہو رسنے لگے گا؛ آنکھیں پتھرا جائیں گی جو کہ امیدِ اڑان کے خاتمے پر دلیل ہوں گی۔ اور خون کے آنسو اس کی اس شکست کا اشتہار ہوں گے جو اس نے اپنی ذات سے کھائی ہوگی۔ ہر قطرہ ایک ادھورے خواب کی راکھ بن کر بہنے لگے گا، جو خاموشی سے سنہرے فرش پر گر کر اس کی زینت بن جائے گا اور وہ پرندہ یوں ہی اس سنہرے پنجرے میں اک باسی بن کر رہ جائے گا۔۔
اس کی آنکھوں کی وہ چمک، جو کبھی ستاروں کو مات دیا کرتی تھی، اک بنجر ویرانے میں بدل جائے گی۔ باہر سے دیکھنے والوں کے لیے وہ ایک "کامل حسن" ہوگا، ایک ایسا وجود جس پر رشک کیا جا سکے، مگر اندرونی طور پر ایک بے نام قبر کھد چکی ہوگی جس میں وہ روز اپنی آرزوؤں کو دفن کرنے لگا ہوگا، اپنی حسرتوں کا مینار بنانے لگا ہوگا۔ اس کی خاموشی کوئی اطمینان نہیں، بلکہ اس کے اندرونی قتل کے بعد کا وہ سناٹا ہوگی جو کسی بھی شور سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔
یہ پرندہ دراصل اس سماج کے ہر اس سینے کا عکاس ہے جہاں کبھی ایک سرکش خواب نے جنم لیا تھا، مگر اسے مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ یہ ان سب کا نوحہ ہے جن کی روحوں کو کچل کر انہیں معاشرے کے وسیع اور بے رحم ڈھانچے میں ایک بے جان پرزہ بنا دیا گیا۔ اس نظام کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اسے جیتے جاگتے، دھڑکتے اور سوال کرتے ہوئے انسان نہیں، بلکہ وہ مکینیکل روبوٹس چاہیے جو ایک طے شدہ فریکوئنسی پر چہچہائیں، جن کی سوچ کی پرواز کا نقشہ پہلے سے کسی اور کے ہاتھ میں ہو، اور جو اپنی انفرادیت کا قیمتی لباس روایات کی اس بھٹی میں جھونک دیں جہاں صرف ایک ہی رنگ کی راکھ باقی بچتی ہے۔
یہاں پرواز کی تمنا کرنے والوں کو براہ راست نہیں قتل کیا جاتا بلکہ انہیں تہذیب اور سلیقے کا وہ زہر پلایا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ ان کے اندر کے لامحدود آسمان کو اتنا سکیڑ دیتا ہے کہ وہ خود اپنے ہی پروں کے وزن سے ڈرنے لگتے ہیں۔
یہ ایک ایسی خاموش نسل کشی ہے جہاں خوابوں کا گلا کسی خنجر سے نہیں، بلکہ "لوگ کیا کہیں گے" کی ریشمی ڈوری سے گھونٹا جاتا ہے۔یا اس ڈر سے کہ کچھ جدید یا نیا ،روایات سے ہٹ کر نا ہو ،جدیدیت کا خوف بھی اسکی ایک بڑی وجہ ہے۔
یوں وہ وجود جو کبھی سورج کو چھونے کی جسارت رکھتے تھے اب اسی سنہری پنجرے کی سلاخوں کو اپنا کل اثاثہ سمجھ کر ان سے لپٹ کر رہنے لگتے ہیں کیونکہ ان کے اندر کی کرچیاں آہستہ آہستہ ان کے لہو کا حصہ بن جاتی ہیں، جو انہیں ہر لمحہ یہ یاد دلاتی ہیں کہ وہ کتنا عظیم ہو سکتے تھے یا ہوسکتا تھا، مگر پھر وہ صرف ایک ایسی نمائش بن کر رہ جاتے ہیں کہ جسے دیکھنے والے تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر چھپے ،مرتے ہوئے آسمان کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں۔
ہماری معاشرتی سوچ ہی ایسی ہے کہ یہاں اڑان کو بھول جانا ہی سب سے بڑی بندگی قرار دے دی جاتی ہے، اور یہی اس المیے کی آخری منزل ہے جہاں قید میں جانے والا پرندہ خود اپنی قید کا محافظ بن جاتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اس معاشرتی سوچ کی قید سے خود کو آزاد کریں اور نا ہی کسی دوسرے کو اس قید کا باسی بنائیں۔ تاکہ کسی پرندے کو ایسی معاشرتی قید کا سامنا نا کرنا پڑے۔۔کیا ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں بن سکتے جہاں خواب دیکھنا بغاوت نہیں، بلکہ جینے کا بنیادی حق سمجھا جائے؟
سوچیے! کہیں آپ بھی کسی سنہرے حصار کی سجاوٹ ؟بن کر اپنی ہی قید کے محافظ تو نہیں بن چکے یا کسی قید کے دربان؟
از قلم: زینب
