WEzaviarfahadf@gmail.com
(منسوب : لانا سیلوریاوس)
ہر سانس کے ساتھ
کھو جاتا ہے، گزر جاتا ہے…
اور شروع ہو جاتا ہے، ایک نیا لمحہ۔
ہم سانس اندر کھینچتے ہیں…
اور اسے باہر خارج کر کے
ماضی کے لمحے کو چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک وہ لمحہ، جو لمحہ بھر پہلے تھا، ہو چکا ہے۔
اور یہ جو لمحہ
ہم فضا کو دے رہے ہیں، اس انسان کو
جو ہم ایک پل پہلے تھے،
وہ سانس اندر کھینچ کے
نئے لمحے میں سانس لے کر
اس شخص کا استقبال کرتے ہیں
جو ہم بننے جا رہے ہیں۔
اور یوں ہم
اسی لمحے کو دہراتے رہتے ہیں۔
یہی سفرِ وقت ہے،
یہی سانس ہے،
یہی زندگی ہے۔
سُراغ
خاموشی
کوئی خلا نہیں
یہ وہ بوجھ ہے
جو سمجھ کے بعد دل پر اترتا ہے
میں نے وہ سب سیکھا
جو لفظوں میں کہنے سے پہلے
انسان کو توڑ دیتا ہے
اور وہ سب دیکھا
جس کے بعد نظر
خود پر ٹھہرنے سے گھبرا جاتی ہے
اب بات کرنا
اپنی سطح کم کرنے جیسا لگتا ہے
کیونکہ ہر جملہ
سچ کا صرف سایہ ہوتا ہے
اور سایوں سے
روشنی کا حساب نہیں لیا جاتا
وقت میرے اندر سے گزرا
اور مجھے پیچھے چھوڑ گیا
میں وہ سوال ہوں
جس کا جواب
خاموشی کے سوا کچھ نہیں
کچھ حقیقتیں
چیخ نہیں سکتیں
وہ صرف
اندر بیٹھ کر
انسان کو بدل دیتی ہیں
" زینب یوسف"
مِعیار
خاموشی کے انتخاب میں ہر بار انسانی معیار کو مرکز بنانا بھی ضروری نہیں،کیونکہ بعض اوقات یہی معیار انسان کو غیر ضروری اخلاقی ہیجان میں مبتلا کر دیتا ہے،ہر خاموشی کو ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کرنا،
انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ ہر حال میں بولنے کو فرض سمجھ بیٹھتا ہے
وجدان
پسندیدگی کی قید میں کوئی نہیں آیا،مگر سوچھ کی دہلیز پر کئی عظیم اذہان نے قدم رکھا
محبت نہیں کی کسی ایک سے،مگر علم کے کلام میں بے شمار روحیں اتریں
عینکِ تعصّب
کیا علم ہمیں آزاد کرتا ہے؟
یا ہم صرف اس علم کو پڑھتے ہیں جو ہمیں پہلے سے درست لگتا ہے؟