عید کا دن
عید کا دن
عید ایک ایسی چھٹی کا دن ہے جو؛ تنہا رہنے والوں، افسردہ حال اور معاشرے کی طرف سے مسترد کیے گئے لوگوں پر ظلم کرتا ہے (عید ان کے لیے باعثِ اذیت ہے)۔
M mehdiq579@gmail.com
We born without reason
عید کا دن
عید ایک ایسی چھٹی کا دن ہے جو؛ تنہا رہنے والوں، افسردہ حال اور معاشرے کی طرف سے مسترد کیے گئے لوگوں پر ظلم کرتا ہے (عید ان کے لیے باعثِ اذیت ہے)۔
جون صاحب
ترے بغیر بھی فطرت نے لی ہے انگڑائی
چمن میں تیرے نہ ہونے پہ بھی بہار آئی
مرا غرورِ نظر ناروا نہیں لیکن
ہے ماورائے نظر بھی جہاں کی رعنائی
نیازِ غیر سے کیا کام خود نمائی کو
ہے خود ہی انجمن آرا یہ انجمن آرائی
ہے فرق دیر و حرم میں فقط یہی کہ حیات
یہاں ہے جانِ تمّنا وہاں تمنائی
میں کیا بتاؤں کسی بے وفا کی مجبوری
کبھی خیال جو آیا تو آنکھ بھر آئی
خون میں لتھڑی ہوا میں اڑتی دھول
وحشت زدہ راتوں میں ہمارے دِل آزردگیاں جَنے گے اور روحیں بوسیدہ ہو کر ہماری شریانوں میں رنج ٹھرائیں گی 'اور
دِل توہمات کے بوجھ تَلے دَب گئے ، ان روحوں کی درندگیوں نے ہمارے بدنوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں
آخر کو
مجھے خود اپنی رفاقت بھی زہر لگتی ہے اب تو، کسی دن میں اپنا ساتھ بھی چھوڑ جاوں گا۔۔
🖤
ادب کے دریچے
اتنا اداس نہیں
کہ کاٹ دوں
کلاٸی کی نسیں
کیونکہ تم نے میرا ہاتھ نہیں تھاما ہوا
اتنا اداس نہیں
کہ گلے میں رسی ڈال کر پنکھے سے لٹک جاٶں
کیونکہ تم نے گلے میں بانہیں نہیں ڈالی ہیں
اتنا اداس نہیں
کہ دریا میں کود جاٶں
کیونکہ تمھارے پیار کا ایک قطرہ بھی نہیں مل رہا
اتنا اداس نہیں
کہ دنیا کو صرف اس لیے چھوڑ دوں
کہ ایک شخص نے مجھے چھوڑ دیا
ہوں گا اداس
مگر ہاروں گا نہیں
کسی ایسے انسان سے
جو مجھ سے نبھا نہ سکا
نبھا کر دکھاٶں گا
خود سے
چاہے میں کتنا ہی ناکام انسان کیوں نہ ہوں
ہوں گا اداس
مگر جانتا ہوں
تعمیر کیسے کرتے ہیں
خود کو دوبارہ
ملبے سے
ہوں گا اداس
مگر نہیں رہوں گا
ایک دن اداس
جیسے نہیں رہے
تم میرے ساتھ
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
وعدوں کے باوجود بھی
یوں ،ایسے
میں تمہیں سیاہ لباس میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔
جس میں ، میں تم سے فجر کی طرح طلوع ہو سکوں۔۔۔۔،
میں تمہیں ایک سفید لباس میں دیکھنا چاہتا ہوں
جس میں ، میں تم میں ، موت کی طرح غروب ہو سکوں۔۔۔۔ ،
آوارگی
قومیں رقص ،موسیقی یا محبت کرنے سے تبا-ہ نہیں ہوتی نہ ہی کوئی عذ-اب آتا ہے۔
قومیں ظلم ، نا انصافی ، حق تلفی ،کم علمی ، اور شدت پسندی سے تبا-ہ ہوتی ہیں!!
پلاتھ کی شاعری سے متاثر شخص
تم میرا وہ دکھ ہو جس کو میں نے موت کی آخری ہچکی تک صبر سے سہنا ہے تم وہ چپ ہو جو ہر رات دل کی دیواروں سے ٹکرا کر سسکیاں بن جاتی ہیں۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ آج رات جب میرے خواب میں دیکھا تمہیں، تمہارا لہجہ وہی تھا پھر بھی میں تمہاری طرف بڑھ گیا تم یہ احساس محسوس کر سکتی ہو؟؟ میری گھبراہٹ سے آنکھ کھل گئی میں نے دعا کی اس کے بعد پھر میرے آنسو نہیں رکے۔
میں نے تمہیں کبھی الزام نہیں دیا۔ نہ شکایت کی ، کیونکہ تم میری دعا بھی تھے اور آزمائش بھی، تمہارے نہ ہونےکا درد میری روح کھینچ لیتا ہے۔ میں تمہیں بھول نہیں پایا۔ صرف جینا سیکھ لیا ہے۔ تمہارے بغیر جیسے زہر کے گھونٹ کو ہر روز پینا سیکھا ہو۔ تم میری وہ ادھوری خواہش ہو جِسے میں ہر دن دفن کرتا ہوں، مگر وہ ہر رات خواب بن کر زندہ ہو جاتی ہے۔ اور میں، میں ہر صبح تمہاری یادوں کی لاش اٹھا کر پھر سے مسکرا دیتا ہوں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مسئلہ یہ نہیں کہ تم مل نہیں پاؤ گے مسئلہ یہ ہے کہ تم ہمیشہ میرے دل میں رہو گے وقت بدل سکتا ہے مگر تمہاری یاد کا رنگ نہیں مٹتا لوگ کہتے ہیں، زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن تمہاری جدائی نے سکھایا کہ کچھ زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں، ہر صبح تمہاری یاد کے ساتھ جاگتا ہوں اور ہر رات تمہارے خیال کے ساتھ سو جاتا ہوں دنیا کی ہنسی میں بھی تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے اور خاموشی میں تمہاری آواز گونجتی ہے، تمہارا چہرہ جیسے دل میں نقش ہو گیا ہے جو کسی موسم کسی حادثے میں نہیں مٹ سکتا میں جتنا بھی کوشش کروں، تمہارا عکس میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ محبت عادت بن گئی ہے اور شاید یہی وہ سزا ہے کہ میں تمہیں عمر بھر بھول نہیں پاؤں گا اور تمہاری محبت جو میرے دل میں ہے اس کو ہمیشہ محسوس کرتا رہوں گا۔
نفرت انگیز
مجھے کسی انسان سے کوئی شکایت نہیں۔ مجھے شکایت ہے سماج کے اس ڈھانچہ سے جو انسان سے اس کی انسانیت چھین لیتا ہے۔ مطلب کے لیے انسان اپنے بھائی کو بھی بیگانہ بنادیتا ہے اور دوست کو دشمن بناتا ہے۔ مجھے شکایت ہے اس تہذیب اور سنسکرتی سے جہاں مُردوں کو پوجا جاتا ہے اور زندہ انسان کو پیروں تلے روندا جاتا ہے۔ جہاں کسی کے دکھ درد پر دو آنسو بہانا بزدلی سمجھا جاتا ہے، جھک کر ملنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں مجھے کبھی شانتی نہیں ملے گی۔ کبھی شانتی نہیں ملے گی۔
پھر انہوں نے زندگی گزاری
قبول ہے! قبول ہے! قبول ہے!
سب نے "ہاں" سنا، مگر ایک نوجوان کونے میں بیٹھا تھا جو اُس کی چیختی ہوئی "نہیں" سن سکتا تھا۔ وہ خاموش بیٹھا رہا جب سب ایک دوسرے سے گلے ملنے اور مٹھائیاں بانٹنے لگے۔
پھر وہ اٹھا اور چلا گیا۔
مصنف نے کہانی ان الفاظ کے ساتھ ختم کی: "اور پھر انہوں نے زندگی گزاری......"
اُس میں "ہنسی خوشی سے ہمیشہ" لکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اُس نے صرف اتنا لکھا: "اور پھر انہوں نے زندگی گزاری۔"
تھکن
ایسا نہیں کہ مجھے لوگوں سے نفرت ہو گئی ہے بس تھک گیا ہوں۔ اتنا کہ اب میں اپنی خاموشی کے سائے میں پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تنہائی میں کوئی خلل نہ ڈالے، کوئی دروازہ نہ کھٹکھٹائے، کوئی سوال نہ کرے۔
میں نے سیکھ لیا ہے کہ کبھی کبھی انسان خود ہی اپنی سب سے محفوظ جگہ ہوتا ہے۔ دنیا شور مچاتی ہے، لوگ باتیں کرتے ہیں، رشتے توقعات رکھتے ہیں اور میں بس ایک ایسی خاموش جگہ چاہتا ہوں جہاں مجھے کسی کے لئے مسکرانے کا تکلف نہ کرنا پڑے۔
تنہائی بددعا نہیں ہوتی؛ بعض اوقات یہی تنہائی انسان کی تھکی ہوئی روح پر مرہم رکھتی ہے۔ میں نے اپنے اندر ایک کونا بنا لیا ہے سادہ بے رنگ مگر میرا
وہاں نہ کوئی الزام ہے، نہ باز پرس نہ کوئی چیخ... بس خاموشی ہے اور میرا سانس چلنے کی ہمت۔
میں اب خود کو سمیٹ کر اس حصار میں رہنا چاہتا ہوں۔ شاید کچھ وقت کے لیے شاید کچھ عرصے تک یا شاید تب تک جب تک دل دوبارہ لوگوں سے نہ ٹوٹنے کی طاقت پیدا کر لے۔
تب تک... مجھے بس اپنی تنہائی چاہیے۔ اور اس تنہائی میں کوئی مداخلت نہ ہو۔
دیوانے کا خواب
ایک طویل عرصے بعد انہوں نے دوبارہ اُس جھونپڑی کا رخ کیا۔ شاید دل میں خیال آیا ہو کہ دیکھ لیا جائے وہ دیوانہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اچانک جھونپڑی کا پردہ ہٹا، اور وہ باہر آیا پھٹے پرانے کپڑوں میں، نشے کی مدہوشی لیے ہوئے۔
نظر اُٹھائی تو سامنے وہی ہستی کھڑی تھی جس سے برسوں پہلے جدائی ہوئی تھی۔ اس نے لمحوں میں صدیوں کی تڑپ آنکھوں میں سمیٹ کر اُسے دیکھا، جیسے وہ ایک نظر میں پوری زندگی لوٹانا چاہتا ہو۔
مگر ابھی وہ لمحہ ٹھہرتا ہی تھا کہ اچانک آنکھوں سے چھَلکی ہوئی تصویر مٹ گئی اور سب کچھ خواب کی طرح گم ہو گیا۔
(جاری ہے)
تم آج بھی خوبصورت ہو
سچ تو یہ ہے کہ میں پارساؤں کی طرح تمہیں برا بھلا بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس لیے نہیں کہ میں بہت نیک ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں جھوٹا نہیں ہوں۔
جو لوگ دن کے وقت تم پر لعنت بھیجتے تھے، وہی رات کے اندھیروں میں تمہیں پوری بےشرمی سے دیکھتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں نفرت نہیں تھی، خواہش تھی اور وہ خواہش اتنی ننگی تھی کہ کسی پردے کی محتاج نہ تھی۔ تنہائی میں تمہاری ننگی پنڈلیوں، تمہاری چھاتیوں کے ابھار اور تمہارے وجود کو حرص بھری نظروں سے تاڑتے، پھر اپنی ہی خواہش کے اسیر ہو جاتے، اور دن کے اُجالے میں تمہیں کوسنا اپنا حق سمجھتے تھے۔
بےحیا، فحش، بےراہ رو، طوائف، نہ جانے کن کن القاب سے وہ تمہیں پکارتے اور ذلیل کرتے رہے۔
میں ان میں سے نہیں۔
میں تمہیں اس لیے معاف نہیں کر رہا کہ تم بے قصور ہو، بلکہ اس لیے کہ میں خود بھی قصوروار ہوں۔ میں جبلت کے تحت سرزد ہونے والی کسی خطا پر، خواہ وہ تمہارا فیصلہ ہو یا محض نادانی، تمہیں زد و کوب نہیں کر سکتا، اس لیے کہ میں نے بھی خواہش کو نام دیا ہے۔ میں نے بھی تنہائی میں اپنے سچ کا سامنا کیا ہے، اور کبھی ذہن کے اندھیروں میں کسی لمس کی شدت کو ابھرتے دیکھا ہے۔ میں وہی ہوں جس نے کبھی کسی کے ساتھ جنسیت کا خواب دیکھا تھا۔
سچ یہ ہے کہ میں بھی خطا کا پتلا ہوں۔
اسی لیے میں دل کی گہرائی سے یہ کہتا ہوں کہ تم آج بھی اتنی ہی خوب صورت ہو، جتنی کبھی پہلے تھی۔
بقولِ غالبؔ
میں نے مجنوںؔ پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

احساس
احساس کی حقیقت کیا ہے اور ادراک کی انتہا کہاں جا ٹھہرتی ہے،
اس کی خبر مجھے نہیں۔ عقل اس باب میں ہمیشہ خالی ہاتھ لوٹی ہے۔ یہ عقیدہ بھی آج تک وا نہ ہوا کہ جب کبھی محبت کا نام لبوں سے پھسلتا ہے تو دل ہے ساختہ تمہاری یاد میں کیوں الجھ جاتا ہے۔ یہ کیسی افتاد ہے کہ کسی صحیفے کے کسی گوشے میں اگر مسکرات کی کوئی دہندلی سی تمثیل دکھائی دے تو نگاہوں کے آئینے میں تمہارے لب خود بہ خود ابھر آتے ہیں، اور جب چاند کی سمت نظر اٹھتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے تمہاری آنکھوں کا پرتو آسمان پر ٹھہر گیا ہو۔ میں ان سب کی توجیہ سے قاصر ہوں۔ اور شاید یہی محبت ہے، بلاجواز، بلا ادراک، کسی غیر موجودگی میں بھی اس کی موجودگی کا مکمل اور گہرا احساس۔
POV By Mehdi
No abstraction possesses, in and of itself, the capacity to generate material reality. A simple illustration suffices, if a human being is shot dead, thought as such is rendered entirely inert, incapable of performing any action. Causality and efficacy are invariably contingent upon material embodiment. Abstraction acquires meaning only when it is instantiated within a material form, all else amounts to nothing more than conjecture and unfounded assertion.
POV By Mehdi
All theologians who have traversed the intellectual stage of this cosmos appear, upon closer scrutiny, to have constructed their edifices at the very outer limits of epistemic ignorance. They failed to grasp even the most elementary principle, that no abstraction, nor any metaphysical postulate, can in itself engender material reality. Upon this fundamental fallacy they erected prolix systems, spun labyrinthine arguments, and blackened countless pages with rhetorical excess. Intellectual honesty demanded, at the very least, a moment of suspension and self-interrogation at this critical juncture. That such restraint was absent renders their enterprise not profound, but lamentable.
ساغر صدیقی اور جج
جج صاحب : میں بارہ سال سے چر۔س پی رہا ہوں ،آپ نے مجھے جیل بھیج دیا تو میں مر جاؤں گا ۔۔۔ انتقال سے ایک روز قبل ساغر اپنے بھائی کے گھر گیا تو دیکھنے والوں نے کیا ماجرا دیکھا ۔۔۔۔ساغر صدیقی کی زندگی کے آخری چند ہفتوں کا افسوسناک احوال ۔۔۔۔ مصدقہ ذرائع بتاتے ہیں کہ مشہور زمانہ شاعر ساغر صدیقی کے زندگی کے آخری ایام انتہائی خراب حال میں گزرے ، زندگی کے غموں نے انہیں بیمار کر ڈالا اور شاعر دوستوں کی محفل نے انہیں نشئیی بنایا ، پھر نشا میں زیادہ سے زیادہ لطف کے چکر میں وہ مار۔فیا کے ٹیکوں کے عادی ہو گئے ایک دو بار انہوں نے طے کر لیا کہ وہ یہ لت چھوڑ دینگے اور ایک خوبصورت زندگی بسر کریں گے ، اس کے لیے انہوں نے ایک چھوٹا سا گھر بھی بنایا مگر انکی قسمت میں اچھی زندگی اور اچھی موت شاید نہیں لکھی تھی ۔۔۔ ایک بار پولیس دیگر نشیئیوں کے ساتھ انہیں گرفتار کرکے لے گئی اسکی گرفتاری کی خبر اخباروں میں چھپی مگر پورے لاہور سے کوئی اسکی ضمانت دینے اور رہا کروانے نہ آیا۔اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو ساغر صدیقی نے جج سے کہا جناب والا میں نشئیی آدمی ہوں جیل میں مر جاؤں گا آپ کو اپنے بچوں کا واسطہ مجھے رہا کردیں ، ساغر صدیقی کے ایک دوست وکیل نے کوشش کی کہ ساغر صدیقی کو جیل میں رکھا جائے یا پاگل خانے بھجوایا جائے تاکہ وہ کچھ عرصہ نشا سے دور رہے اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے تو اسے رہا کروایا جائے ، مگر ساغر صدیقی سے جب جج صاحب نے پوچھا تو اس نے چیخ چیخ کر رہائی کی درخواست کی جس پر انہیں رہا کردیا گیا اور وہ دوبارہ نشا کی طرف واپس لوٹ آئے ۔ اس لت نے ساغر صدیقی کو اس حد تک نقصان پہنچایا کہ انکاجسم انتہائی کمزور ہو گیا انہیں فالج کا اٹیک بھی ہوا دایاں ہاتھ کام کرنا چھوڑ گیا تھا اور انکی بینائی بھی شدید متاثر ہوئی تھی ۔ساغر صدیقی کو ابتدائی ایام میں جب نشا کرتے کچھ ہی ماہ ہویئے تھے انور کمال پاشا نے اپنی ایک فلم میں گانے لکھنے کو کہا ، ساغر صدیقی کو ایڈوانس معاوضہ پانچ سو روپے دیا گیا ، پاشا صاحب کے کہنے پر ایک دوست انہیں بازار لے گئے ، جوتی کپڑے لے دیے اور باقی رقم انکی جیب میں ڈالی مگر ساغر بجائے گھر جانے کے نشا کے اڈے پر چلے گئے خود بھی جی بھر کے کیا اور وہاں موجود سب لوگوں کو بھی کروایا اور خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے ، ان دنوں وہ لاہور میں سرکلر روڈ کے ایک فٹ پاتھ پر رہتا تھا جب ساغر کی غزل چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے مشہور ہوئی تو مہدی حسن لاہور کے ایک بڑے پبلشر کے ساتھ ساغر صدیقی کو ملنے انکے فٹ پاتھ والے غریب خانے پر آئے ، مہدی حسن ہزار روپے ساتھ لائے تھے تاکہ ساغر کو پیش کریں مگر جس وقت وہ آئے ساغر دھت تھا اور اس نے کسی کو نہ پہچانا ، چنانچہ یہ لوگ مایوس واپس لوٹ گئے ، جب ساغر کو ہوش آئی تو یہ جان کر وہ پریشان ہوا کہ اسے ملنے اتنی بڑی ہستیاں آئی تھیں اور وہ ان سے ملاقات سے محروم رہا ، وہ اسی روز اس پبلشر کی دکان پر گیا اور ان سے پانچ روپے ادھار لے آیا تاکہ اگلے رات دن کا سامان ہو ۔۔۔۔ساغر اپنے ان حالات سے نکلنا چاہتا تھا اس نے کئی بار ایک کمرہ کرائےپر لیا مگر نشا اور نشئیی دوستوں نے ساتھ نہ چھوڑا وہ اکثر کرایہ نہ دے پاتا اور اسے کمرے سےنکال دیا جاتا ، پھر شاید اسے فٹ پاتھ پر رہنے کی عادت پڑ گئی ۔۔ یہ واقعہ صرف ایک فسانہ ہےکہ ساغر صدیقی جس لڑکی سے عشق کرتے تھے وہ ایک معمولی شخص کی بیٹی تھی ساغر نے جب رشتے کے لیے اپنے گھر والوں کو کہا تو انکا جواب تھا ، ہم خاندانی لوگ ہیں ایک معمولی تنور والے کی بیٹی سے تمہاری شادی ہرگز نہیں ہو سکتی ۔یہ تو درست ہے کہ زیادہ تر پبلشرز انکی شاعری خرید کر اور کتابیں چھاپ کر لاکھ پتی بنے لیکن ساغر صدیقی کی سو / پچاس روپے کے علاوہ عملی مدد کسی نے نہیں کی کہ اسے کسی طرح نارمل زندگی کی طرف لائیں مگر یہ بھی درست ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں چند صحافیوں نے انکی حالت بہتر بنانے کے لیے اخبار میں امداد کی اپیل کی ، کچھ رقم احمد ندیم قاسمی کے پاس جمع ہو گئی مگر افسوس یہ رقم بھی ساغر کے علاج پر نہیں بلکہ لت پر لگی ، ایک آخری امید لیے کچھ مخلص دوستوں نے ساغر کو فٹ پاتھ سے ہسپتال منتقل کرنا چاہا تو ساغر صدیقی بولے ہسپتال نہیں جاؤ گا ڈاکٹر مجھے مار ڈالیں گے ۔۔۔ پھر انہیں جب بھی ہسپتال لے جانے کا کہا جاتا تو وہ غائب ہو جاتے اور گھنٹوں اپنے ٹھکانے پر نظر نہ آتے۔۔، وفات سے ایک روز قبل جب کھانستے ہوئے منہ سے خون آنے لگا تو وہ آخری امید کے طور پر اپنے بھائی کے گھر گئے شاید اسے یقین تھا کہ اب اسکی زندگی کی شمع بجھنے کو ہے یا ہو سکتا ہے وہ چاہتا ہو کہ کم از کم لاوارث نہ مرے ۔وہ بھائی جو اگر چاہتا تو ساغر کو راہ راست پر لا سکتا تھا مگر برسوں اس نے ساغر صدیقی کی خبر نہ لی تھی ، ساغر صدیقی کے بھائی نے اسے گھر میں بٹھایا ، کچھ کھلانے پلانے کی کوشش کی مگر اب ساغر کا جسم کھانا پینا قبول نہیں کررہا تھا ، رات ہوئی جو جانے کیسے گزر گئی اور اس رات کی صبح ساغر صدیقی اپنے بھائی کے گھر میں مردہ پائے گئے ۔۔۔ حالانکہ یہ واقعہ زیادہ مشہور ہے کہ ساغر کی موت سڑک کنارے فٹ پاتھ پر ہی ہوئی تھی ۔۔۔ بہرحال ساغر صدیقی کی آخری رسومات ادا کرکے انہیں قبرستان میانی صاحب میں سپردخاک کردیا گیا ۔۔۔ اللہ کریم ساغر صدیقی کے درجات بلند فرمائے ۔۔۔۔
ٹیم سلطان ۔
نہلزم
مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ نہلزم واقعی ایک بہترین فلسیفانہ نظریہ ہے اور یہ اپنے آپ میں ہی خالی پن رکھتا ہے دنیا کی تمام رنگینی اور ہل چل کو ایک سمے کے لیے رد کر دیتا یے اور حقیقت و بے روانی کی طرف راغب کرتا ہے شاید انسان ایک جگہ جا کر مکمل طور پر اس کا شکار ہو جاتا یے
آئینی ترمیم
اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے اہم سنگ میل ہے۔ اس ترمیم کی منظوری سے آج تک فوجی جرنیلوں کی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح اس اہم سیاسی کامیابی کو ختم کیا جائے۔ پندرہ سال سے آپ جو سیاسی تباہی دیکھ رہے ہیں، اس کے درپردہ بنیادی محرک اس ترمیم کے خاتمے کا جال تھا۔
ن لیگ اگر اس ترمیم کے خاتمے کا حصہ بنتی ہے یا پیپلز پارٹی اس تباہ کن راستے میں ساتھ دیتی ہے، تو نہ صرف اپنا سیاسی مستقبل خاک کر لیں گی بلکہ ساتھ ہی پاکستان کو طویل مدت کے لیے ہائبرڈ نظام کے نام پر دستوری پشت پناہی والی فوجی آمریت کے سپرد کر دیں گے۔
فوج سے سویلین اسپس واپس لینے کے بجائے دھیرے دھیرے تمام تر اسپیس جی ایچ کیو پہنچتی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک نکل سکتا ہے۔
برصغیر میں اسلام صوفیوں نے پھیلایا
یہ غلط فہمی اصل میں اٹھارویں اور انیسویں صدی کی ان تحریروں کا نتیجہ ہے جو انگریز مؤرخین نے برصغیر کے بارے میں تحریر کیں۔ ان تحاریر میں صوفیا کا بیان جب باقی دنیا کو پتہ لگا تو وہ انہیں کرسچن مشنریز کا مسلمان متبادل سمجھے جبکہ درحقیقت ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ صوفیا بنیادی طور پر ایک متوازی مسلک کے نقیب تھے جو عربی اسلام کو ہندوستانی ثقافتی پس منظر کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا تھا۔ ان صوفیا میں نہ کوئی تبلیغی تھا نہ ہی ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کی روایت موجود تھی۔
برصغیر میں اسلام وسط ایشیا، ایران اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے فاتحین کی لشکر کشی اور فوجی کامیابیوں کا نتیجہ تھا۔ اس کا صوفیا کے “ اخلاق” سے کوئی دور دور کا تعلق نہیں تھا۔ اس دوران استحصال سے بچنے کے لیے نچلی سمجھی جانے والی ہندو ذاتوں سے بھی بہت تیزی سے کنورژن ہوئی ۔ کنورٹ ہونے والوں کی اکثریت نے ایک خودحفاطتی میکینزم کے تحت اسلام میں اعلیٰ سمجھے جانے والی ذاتوں کا ٹھپا لگوانے کی حکمت عملی اپنائی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں سادات کی تعداد مبالغہ آمیز حد سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔