آوارگی
آوارگی
قومیں رقص ،موسیقی یا محبت کرنے سے تبا-ہ نہیں ہوتی نہ ہی کوئی عذ-اب آتا ہے۔
قومیں ظلم ، نا انصافی ، حق تلفی ،کم علمی ، اور شدت پسندی سے تبا-ہ ہوتی ہیں!!
M mehdiq579@gmail.com
We born without reason
آوارگی
قومیں رقص ،موسیقی یا محبت کرنے سے تبا-ہ نہیں ہوتی نہ ہی کوئی عذ-اب آتا ہے۔
قومیں ظلم ، نا انصافی ، حق تلفی ،کم علمی ، اور شدت پسندی سے تبا-ہ ہوتی ہیں!!
پلاتھ کی شاعری سے متاثر شخص
تم میرا وہ دکھ ہو جس کو میں نے موت کی آخری ہچکی تک صبر سے سہنا ہے تم وہ چپ ہو جو ہر رات دل کی دیواروں سے ٹکرا کر سسکیاں بن جاتی ہیں۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ آج رات جب میرے خواب میں دیکھا تمہیں، تمہارا لہجہ وہی تھا پھر بھی میں تمہاری طرف بڑھ گیا تم یہ احساس محسوس کر سکتی ہو؟؟ میری گھبراہٹ سے آنکھ کھل گئی میں نے دعا کی اس کے بعد پھر میرے آنسو نہیں رکے۔
میں نے تمہیں کبھی الزام نہیں دیا۔ نہ شکایت کی ، کیونکہ تم میری دعا بھی تھے اور آزمائش بھی، تمہارے نہ ہونےکا درد میری روح کھینچ لیتا ہے۔ میں تمہیں بھول نہیں پایا۔ صرف جینا سیکھ لیا ہے۔ تمہارے بغیر جیسے زہر کے گھونٹ کو ہر روز پینا سیکھا ہو۔ تم میری وہ ادھوری خواہش ہو جِسے میں ہر دن دفن کرتا ہوں، مگر وہ ہر رات خواب بن کر زندہ ہو جاتی ہے۔ اور میں، میں ہر صبح تمہاری یادوں کی لاش اٹھا کر پھر سے مسکرا دیتا ہوں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مسئلہ یہ نہیں کہ تم مل نہیں پاؤ گے مسئلہ یہ ہے کہ تم ہمیشہ میرے دل میں رہو گے وقت بدل سکتا ہے مگر تمہاری یاد کا رنگ نہیں مٹتا لوگ کہتے ہیں، زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں لیکن تمہاری جدائی نے سکھایا کہ کچھ زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں، ہر صبح تمہاری یاد کے ساتھ جاگتا ہوں اور ہر رات تمہارے خیال کے ساتھ سو جاتا ہوں دنیا کی ہنسی میں بھی تمہاری کمی محسوس ہوتی ہے اور خاموشی میں تمہاری آواز گونجتی ہے، تمہارا چہرہ جیسے دل میں نقش ہو گیا ہے جو کسی موسم کسی حادثے میں نہیں مٹ سکتا میں جتنا بھی کوشش کروں، تمہارا عکس میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ محبت عادت بن گئی ہے اور شاید یہی وہ سزا ہے کہ میں تمہیں عمر بھر بھول نہیں پاؤں گا اور تمہاری محبت جو میرے دل میں ہے اس کو ہمیشہ محسوس کرتا رہوں گا۔
نفرت انگیز
مجھے کسی انسان سے کوئی شکایت نہیں۔ مجھے شکایت ہے سماج کے اس ڈھانچہ سے جو انسان سے اس کی انسانیت چھین لیتا ہے۔ مطلب کے لیے انسان اپنے بھائی کو بھی بیگانہ بنادیتا ہے اور دوست کو دشمن بناتا ہے۔ مجھے شکایت ہے اس تہذیب اور سنسکرتی سے جہاں مُردوں کو پوجا جاتا ہے اور زندہ انسان کو پیروں تلے روندا جاتا ہے۔ جہاں کسی کے دکھ درد پر دو آنسو بہانا بزدلی سمجھا جاتا ہے، جھک کر ملنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں مجھے کبھی شانتی نہیں ملے گی۔ کبھی شانتی نہیں ملے گی۔
پھر انہوں نے زندگی گزاری
قبول ہے! قبول ہے! قبول ہے!
سب نے "ہاں" سنا، مگر ایک نوجوان کونے میں بیٹھا تھا جو اُس کی چیختی ہوئی "نہیں" سن سکتا تھا۔ وہ خاموش بیٹھا رہا جب سب ایک دوسرے سے گلے ملنے اور مٹھائیاں بانٹنے لگے۔
پھر وہ اٹھا اور چلا گیا۔
مصنف نے کہانی ان الفاظ کے ساتھ ختم کی: "اور پھر انہوں نے زندگی گزاری......"
اُس میں "ہنسی خوشی سے ہمیشہ" لکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
اُس نے صرف اتنا لکھا: "اور پھر انہوں نے زندگی گزاری۔"
تھکن
ایسا نہیں کہ مجھے لوگوں سے نفرت ہو گئی ہے بس تھک گیا ہوں۔ اتنا کہ اب میں اپنی خاموشی کے سائے میں پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تنہائی میں کوئی خلل نہ ڈالے، کوئی دروازہ نہ کھٹکھٹائے، کوئی سوال نہ کرے۔
میں نے سیکھ لیا ہے کہ کبھی کبھی انسان خود ہی اپنی سب سے محفوظ جگہ ہوتا ہے۔ دنیا شور مچاتی ہے، لوگ باتیں کرتے ہیں، رشتے توقعات رکھتے ہیں اور میں بس ایک ایسی خاموش جگہ چاہتا ہوں جہاں مجھے کسی کے لئے مسکرانے کا تکلف نہ کرنا پڑے۔
تنہائی بددعا نہیں ہوتی؛ بعض اوقات یہی تنہائی انسان کی تھکی ہوئی روح پر مرہم رکھتی ہے۔ میں نے اپنے اندر ایک کونا بنا لیا ہے سادہ بے رنگ مگر میرا
وہاں نہ کوئی الزام ہے، نہ باز پرس نہ کوئی چیخ... بس خاموشی ہے اور میرا سانس چلنے کی ہمت۔
میں اب خود کو سمیٹ کر اس حصار میں رہنا چاہتا ہوں۔ شاید کچھ وقت کے لیے شاید کچھ عرصے تک یا شاید تب تک جب تک دل دوبارہ لوگوں سے نہ ٹوٹنے کی طاقت پیدا کر لے۔
تب تک... مجھے بس اپنی تنہائی چاہیے۔ اور اس تنہائی میں کوئی مداخلت نہ ہو۔
دیوانے کا خواب
ایک طویل عرصے بعد انہوں نے دوبارہ اُس جھونپڑی کا رخ کیا۔ شاید دل میں خیال آیا ہو کہ دیکھ لیا جائے وہ دیوانہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اچانک جھونپڑی کا پردہ ہٹا، اور وہ باہر آیا پھٹے پرانے کپڑوں میں، نشے کی مدہوشی لیے ہوئے۔
نظر اُٹھائی تو سامنے وہی ہستی کھڑی تھی جس سے برسوں پہلے جدائی ہوئی تھی۔ اس نے لمحوں میں صدیوں کی تڑپ آنکھوں میں سمیٹ کر اُسے دیکھا، جیسے وہ ایک نظر میں پوری زندگی لوٹانا چاہتا ہو۔
مگر ابھی وہ لمحہ ٹھہرتا ہی تھا کہ اچانک آنکھوں سے چھَلکی ہوئی تصویر مٹ گئی اور سب کچھ خواب کی طرح گم ہو گیا۔
(جاری ہے)
تم آج بھی خوبصورت ہو
سچ تو یہ ہے کہ میں پارساؤں کی طرح تمہیں برا بھلا بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس لیے نہیں کہ میں بہت نیک ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں جھوٹا نہیں ہوں۔
جو لوگ دن کے وقت تم پر لعنت بھیجتے تھے، وہی رات کے اندھیروں میں تمہیں پوری بےشرمی سے دیکھتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں نفرت نہیں تھی، خواہش تھی اور وہ خواہش اتنی ننگی تھی کہ کسی پردے کی محتاج نہ تھی۔ تنہائی میں تمہاری ننگی پنڈلیوں، تمہاری چھاتیوں کے ابھار اور تمہارے وجود کو حرص بھری نظروں سے تاڑتے، پھر اپنی ہی خواہش کے اسیر ہو جاتے، اور دن کے اُجالے میں تمہیں کوسنا اپنا حق سمجھتے تھے۔
بےحیا، فحش، بےراہ رو، طوائف، نہ جانے کن کن القاب سے وہ تمہیں پکارتے اور ذلیل کرتے رہے۔
میں ان میں سے نہیں۔
میں تمہیں اس لیے معاف نہیں کر رہا کہ تم بے قصور ہو، بلکہ اس لیے کہ میں خود بھی قصوروار ہوں۔ میں جبلت کے تحت سرزد ہونے والی کسی خطا پر، خواہ وہ تمہارا فیصلہ ہو یا محض نادانی، تمہیں زد و کوب نہیں کر سکتا، اس لیے کہ میں نے بھی خواہش کو نام دیا ہے۔ میں نے بھی تنہائی میں اپنے سچ کا سامنا کیا ہے، اور کبھی ذہن کے اندھیروں میں کسی لمس کی شدت کو ابھرتے دیکھا ہے۔ میں وہی ہوں جس نے کبھی کسی کے ساتھ جنسیت کا خواب دیکھا تھا۔
سچ یہ ہے کہ میں بھی خطا کا پتلا ہوں۔
اسی لیے میں دل کی گہرائی سے یہ کہتا ہوں کہ تم آج بھی اتنی ہی خوب صورت ہو، جتنی کبھی پہلے تھی۔
بقولِ غالبؔ
میں نے مجنوںؔ پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

احساس
احساس کی حقیقت کیا ہے اور ادراک کی انتہا کہاں جا ٹھہرتی ہے،
اس کی خبر مجھے نہیں۔ عقل اس باب میں ہمیشہ خالی ہاتھ لوٹی ہے۔ یہ عقیدہ بھی آج تک وا نہ ہوا کہ جب کبھی محبت کا نام لبوں سے پھسلتا ہے تو دل ہے ساختہ تمہاری یاد میں کیوں الجھ جاتا ہے۔ یہ کیسی افتاد ہے کہ کسی صحیفے کے کسی گوشے میں اگر مسکرات کی کوئی دہندلی سی تمثیل دکھائی دے تو نگاہوں کے آئینے میں تمہارے لب خود بہ خود ابھر آتے ہیں، اور جب چاند کی سمت نظر اٹھتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے تمہاری آنکھوں کا پرتو آسمان پر ٹھہر گیا ہو۔ میں ان سب کی توجیہ سے قاصر ہوں۔ اور شاید یہی محبت ہے، بلاجواز، بلا ادراک، کسی غیر موجودگی میں بھی اس کی موجودگی کا مکمل اور گہرا احساس۔
POV By Mehdi
No abstraction possesses, in and of itself, the capacity to generate material reality. A simple illustration suffices, if a human being is shot dead, thought as such is rendered entirely inert, incapable of performing any action. Causality and efficacy are invariably contingent upon material embodiment. Abstraction acquires meaning only when it is instantiated within a material form, all else amounts to nothing more than conjecture and unfounded assertion.
POV By Mehdi
All theologians who have traversed the intellectual stage of this cosmos appear, upon closer scrutiny, to have constructed their edifices at the very outer limits of epistemic ignorance. They failed to grasp even the most elementary principle, that no abstraction, nor any metaphysical postulate, can in itself engender material reality. Upon this fundamental fallacy they erected prolix systems, spun labyrinthine arguments, and blackened countless pages with rhetorical excess. Intellectual honesty demanded, at the very least, a moment of suspension and self-interrogation at this critical juncture. That such restraint was absent renders their enterprise not profound, but lamentable.
ساغر صدیقی اور جج
جج صاحب : میں بارہ سال سے چر۔س پی رہا ہوں ،آپ نے مجھے جیل بھیج دیا تو میں مر جاؤں گا ۔۔۔ انتقال سے ایک روز قبل ساغر اپنے بھائی کے گھر گیا تو دیکھنے والوں نے کیا ماجرا دیکھا ۔۔۔۔ساغر صدیقی کی زندگی کے آخری چند ہفتوں کا افسوسناک احوال ۔۔۔۔ مصدقہ ذرائع بتاتے ہیں کہ مشہور زمانہ شاعر ساغر صدیقی کے زندگی کے آخری ایام انتہائی خراب حال میں گزرے ، زندگی کے غموں نے انہیں بیمار کر ڈالا اور شاعر دوستوں کی محفل نے انہیں نشئیی بنایا ، پھر نشا میں زیادہ سے زیادہ لطف کے چکر میں وہ مار۔فیا کے ٹیکوں کے عادی ہو گئے ایک دو بار انہوں نے طے کر لیا کہ وہ یہ لت چھوڑ دینگے اور ایک خوبصورت زندگی بسر کریں گے ، اس کے لیے انہوں نے ایک چھوٹا سا گھر بھی بنایا مگر انکی قسمت میں اچھی زندگی اور اچھی موت شاید نہیں لکھی تھی ۔۔۔ ایک بار پولیس دیگر نشیئیوں کے ساتھ انہیں گرفتار کرکے لے گئی اسکی گرفتاری کی خبر اخباروں میں چھپی مگر پورے لاہور سے کوئی اسکی ضمانت دینے اور رہا کروانے نہ آیا۔اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو ساغر صدیقی نے جج سے کہا جناب والا میں نشئیی آدمی ہوں جیل میں مر جاؤں گا آپ کو اپنے بچوں کا واسطہ مجھے رہا کردیں ، ساغر صدیقی کے ایک دوست وکیل نے کوشش کی کہ ساغر صدیقی کو جیل میں رکھا جائے یا پاگل خانے بھجوایا جائے تاکہ وہ کچھ عرصہ نشا سے دور رہے اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے تو اسے رہا کروایا جائے ، مگر ساغر صدیقی سے جب جج صاحب نے پوچھا تو اس نے چیخ چیخ کر رہائی کی درخواست کی جس پر انہیں رہا کردیا گیا اور وہ دوبارہ نشا کی طرف واپس لوٹ آئے ۔ اس لت نے ساغر صدیقی کو اس حد تک نقصان پہنچایا کہ انکاجسم انتہائی کمزور ہو گیا انہیں فالج کا اٹیک بھی ہوا دایاں ہاتھ کام کرنا چھوڑ گیا تھا اور انکی بینائی بھی شدید متاثر ہوئی تھی ۔ساغر صدیقی کو ابتدائی ایام میں جب نشا کرتے کچھ ہی ماہ ہویئے تھے انور کمال پاشا نے اپنی ایک فلم میں گانے لکھنے کو کہا ، ساغر صدیقی کو ایڈوانس معاوضہ پانچ سو روپے دیا گیا ، پاشا صاحب کے کہنے پر ایک دوست انہیں بازار لے گئے ، جوتی کپڑے لے دیے اور باقی رقم انکی جیب میں ڈالی مگر ساغر بجائے گھر جانے کے نشا کے اڈے پر چلے گئے خود بھی جی بھر کے کیا اور وہاں موجود سب لوگوں کو بھی کروایا اور خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے ، ان دنوں وہ لاہور میں سرکلر روڈ کے ایک فٹ پاتھ پر رہتا تھا جب ساغر کی غزل چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے مشہور ہوئی تو مہدی حسن لاہور کے ایک بڑے پبلشر کے ساتھ ساغر صدیقی کو ملنے انکے فٹ پاتھ والے غریب خانے پر آئے ، مہدی حسن ہزار روپے ساتھ لائے تھے تاکہ ساغر کو پیش کریں مگر جس وقت وہ آئے ساغر دھت تھا اور اس نے کسی کو نہ پہچانا ، چنانچہ یہ لوگ مایوس واپس لوٹ گئے ، جب ساغر کو ہوش آئی تو یہ جان کر وہ پریشان ہوا کہ اسے ملنے اتنی بڑی ہستیاں آئی تھیں اور وہ ان سے ملاقات سے محروم رہا ، وہ اسی روز اس پبلشر کی دکان پر گیا اور ان سے پانچ روپے ادھار لے آیا تاکہ اگلے رات دن کا سامان ہو ۔۔۔۔ساغر اپنے ان حالات سے نکلنا چاہتا تھا اس نے کئی بار ایک کمرہ کرائےپر لیا مگر نشا اور نشئیی دوستوں نے ساتھ نہ چھوڑا وہ اکثر کرایہ نہ دے پاتا اور اسے کمرے سےنکال دیا جاتا ، پھر شاید اسے فٹ پاتھ پر رہنے کی عادت پڑ گئی ۔۔ یہ واقعہ صرف ایک فسانہ ہےکہ ساغر صدیقی جس لڑکی سے عشق کرتے تھے وہ ایک معمولی شخص کی بیٹی تھی ساغر نے جب رشتے کے لیے اپنے گھر والوں کو کہا تو انکا جواب تھا ، ہم خاندانی لوگ ہیں ایک معمولی تنور والے کی بیٹی سے تمہاری شادی ہرگز نہیں ہو سکتی ۔یہ تو درست ہے کہ زیادہ تر پبلشرز انکی شاعری خرید کر اور کتابیں چھاپ کر لاکھ پتی بنے لیکن ساغر صدیقی کی سو / پچاس روپے کے علاوہ عملی مدد کسی نے نہیں کی کہ اسے کسی طرح نارمل زندگی کی طرف لائیں مگر یہ بھی درست ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں چند صحافیوں نے انکی حالت بہتر بنانے کے لیے اخبار میں امداد کی اپیل کی ، کچھ رقم احمد ندیم قاسمی کے پاس جمع ہو گئی مگر افسوس یہ رقم بھی ساغر کے علاج پر نہیں بلکہ لت پر لگی ، ایک آخری امید لیے کچھ مخلص دوستوں نے ساغر کو فٹ پاتھ سے ہسپتال منتقل کرنا چاہا تو ساغر صدیقی بولے ہسپتال نہیں جاؤ گا ڈاکٹر مجھے مار ڈالیں گے ۔۔۔ پھر انہیں جب بھی ہسپتال لے جانے کا کہا جاتا تو وہ غائب ہو جاتے اور گھنٹوں اپنے ٹھکانے پر نظر نہ آتے۔۔، وفات سے ایک روز قبل جب کھانستے ہوئے منہ سے خون آنے لگا تو وہ آخری امید کے طور پر اپنے بھائی کے گھر گئے شاید اسے یقین تھا کہ اب اسکی زندگی کی شمع بجھنے کو ہے یا ہو سکتا ہے وہ چاہتا ہو کہ کم از کم لاوارث نہ مرے ۔وہ بھائی جو اگر چاہتا تو ساغر کو راہ راست پر لا سکتا تھا مگر برسوں اس نے ساغر صدیقی کی خبر نہ لی تھی ، ساغر صدیقی کے بھائی نے اسے گھر میں بٹھایا ، کچھ کھلانے پلانے کی کوشش کی مگر اب ساغر کا جسم کھانا پینا قبول نہیں کررہا تھا ، رات ہوئی جو جانے کیسے گزر گئی اور اس رات کی صبح ساغر صدیقی اپنے بھائی کے گھر میں مردہ پائے گئے ۔۔۔ حالانکہ یہ واقعہ زیادہ مشہور ہے کہ ساغر کی موت سڑک کنارے فٹ پاتھ پر ہی ہوئی تھی ۔۔۔ بہرحال ساغر صدیقی کی آخری رسومات ادا کرکے انہیں قبرستان میانی صاحب میں سپردخاک کردیا گیا ۔۔۔ اللہ کریم ساغر صدیقی کے درجات بلند فرمائے ۔۔۔۔
ٹیم سلطان ۔
نہلزم
مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ نہلزم واقعی ایک بہترین فلسیفانہ نظریہ ہے اور یہ اپنے آپ میں ہی خالی پن رکھتا ہے دنیا کی تمام رنگینی اور ہل چل کو ایک سمے کے لیے رد کر دیتا یے اور حقیقت و بے روانی کی طرف راغب کرتا ہے شاید انسان ایک جگہ جا کر مکمل طور پر اس کا شکار ہو جاتا یے
آئینی ترمیم
اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے اہم سنگ میل ہے۔ اس ترمیم کی منظوری سے آج تک فوجی جرنیلوں کی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح اس اہم سیاسی کامیابی کو ختم کیا جائے۔ پندرہ سال سے آپ جو سیاسی تباہی دیکھ رہے ہیں، اس کے درپردہ بنیادی محرک اس ترمیم کے خاتمے کا جال تھا۔
ن لیگ اگر اس ترمیم کے خاتمے کا حصہ بنتی ہے یا پیپلز پارٹی اس تباہ کن راستے میں ساتھ دیتی ہے، تو نہ صرف اپنا سیاسی مستقبل خاک کر لیں گی بلکہ ساتھ ہی پاکستان کو طویل مدت کے لیے ہائبرڈ نظام کے نام پر دستوری پشت پناہی والی فوجی آمریت کے سپرد کر دیں گے۔
فوج سے سویلین اسپس واپس لینے کے بجائے دھیرے دھیرے تمام تر اسپیس جی ایچ کیو پہنچتی جا رہی ہے اور اس کا نتیجہ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک نکل سکتا ہے۔
برصغیر میں اسلام صوفیوں نے پھیلایا
یہ غلط فہمی اصل میں اٹھارویں اور انیسویں صدی کی ان تحریروں کا نتیجہ ہے جو انگریز مؤرخین نے برصغیر کے بارے میں تحریر کیں۔ ان تحاریر میں صوفیا کا بیان جب باقی دنیا کو پتہ لگا تو وہ انہیں کرسچن مشنریز کا مسلمان متبادل سمجھے جبکہ درحقیقت ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ صوفیا بنیادی طور پر ایک متوازی مسلک کے نقیب تھے جو عربی اسلام کو ہندوستانی ثقافتی پس منظر کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا تھا۔ ان صوفیا میں نہ کوئی تبلیغی تھا نہ ہی ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کی روایت موجود تھی۔
برصغیر میں اسلام وسط ایشیا، ایران اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے فاتحین کی لشکر کشی اور فوجی کامیابیوں کا نتیجہ تھا۔ اس کا صوفیا کے “ اخلاق” سے کوئی دور دور کا تعلق نہیں تھا۔ اس دوران استحصال سے بچنے کے لیے نچلی سمجھی جانے والی ہندو ذاتوں سے بھی بہت تیزی سے کنورژن ہوئی ۔ کنورٹ ہونے والوں کی اکثریت نے ایک خودحفاطتی میکینزم کے تحت اسلام میں اعلیٰ سمجھے جانے والی ذاتوں کا ٹھپا لگوانے کی حکمت عملی اپنائی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں سادات کی تعداد مبالغہ آمیز حد سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔
ہمارے تعلقات اور شخصی آزادی
تعلق ختم ہو جانے کے بعد ایک دوسرے کے لیے personal grudge مت پالیں۔۔
تعلق میں شیرینی بھی ہوتی ہے اور تلخی بھی۔۔ صرف تلخ حصّے کو یاد رکھ کر اُس شخص کے لیے نفرت یا دشمنی کے جذبات رکھنا کچھ مناسب بات نہیں۔۔
یہ بالکل آپ کی اپنی چوائس ہو سکتی ہے کہ آپ زیادہ رابطہ یا میل جول رکھنا نہ چاہیں لیکن ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہ ہونا یا آنکھیں پھیر لینا یہ رویّہ کچھ درست نہیں۔۔
اور اتنا پاس ضرور رکھ لینا چاہیے کہ اگر آپ اُس شخص کی حمایت میں آگے نہ بھی آئیں تو صرف اپنے grudge کی بنا پر مخالفین کی ہم آواز بھی نہ بنیں۔۔۔
اگر وہ شخص آپ کے ساتھ مزید آگے چلنا نہیں چاہتا اور راستہ الگ کرنا چاہتا ہے تو کم ظرفی دِکھانے کے بجائے اُس کے فیصلے کو قبولیں۔۔
کوئی بھی انسان کسی دوسرے کی پراپرٹی/ملکیت نہیں ہے۔۔ ایک دوسرے کی شخصی آزادی کا احترام کرنا سیکھیے۔۔
اپنی ریجیکشن کو بھی grace کے ساتھ قبول کرنا سیکھیے۔۔ :)
پاکستان میں تعلیمی انقلاب کی ابتدا :ایک علمی تجویز
تحریر: ڈاکٹر سہیل زبیری
نومبر 2، 2025
کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک تعلیمی انقلاب لا یا جا سکے، ایسا انقلاب جس میں ملک کے ہر بچے کو ایسی تعلیم سے آراستہ کیا جائے جو اس وقت صرف بالائی طبقات سے وابستہ بچوں کو میسر ہے؟
یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔
اس موضوع پر میں پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں اور اس مضمون میں ماضی میں لکھے گئے اپنے مضامین سے استفادہ بھی کروں گا۔
اس مضمون کا مقصد ان بنیادی مسائل کا جائزہ لینا نہیں جن کا ہماری سوسائٹی کو سامنا ہے اور جو ایک تعلیمی انقلاب کی راہ میں مانع ہیں۔ اسی طرح اس مضمون میں ایک جامع تعلیمی پالیسی کے خد و خال پر اپنی رائے دینے سے بھی احتراز کروں گا۔ اس کے لیے اگلا مضمون مختص کروں گا۔
اس مضمون میں تو ایک ایسا طریقہ کار تجویز کرنا ہے جس کے ذریعے بہت کم مدت میں اور بہت معمولی وسائل کے ساتھ ملک کے ہر بچے کو اسکول کی سطح پر کوالٹی تعلیم میسر ہو سکے۔ یہ ایک تعلیمی انقلاب کی طرف پہلا مگر بہت اہم قدم ہو گا۔
بظاہر تو یہ ناممکن نظر آتا ہے، لیکن اس مضمون کے ذریعے یہ واضح کرنا ہے، کہ ایسا یقینی طور پر ممکن ہے بشرطیکہ ملک اور معاشرہ اس کے لیے یکسو ہوجائیں۔
یہاں میرا زور ان اقدامات پر ہو گا جو فوری طور پر ملکی وسائل کی بنیاد پر لینا ممکن ہے اور جن سے ہمارے اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین فرق میں واضح تبدیلی لائی جا سکے۔ ان تجاویز کا محور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب ہے جو ہماری زندگی میں وقوع ہونے والا سب سے اہم واقعہ ہے۔ یہ انقلاب ہماری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے رُونما ہُوا۔
تعلیمی شعبے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے میرے لیے یہ سوال اہم رہا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ ایسا کیونکر ممکن ہو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کی بدولت ہر سطح کے طلباء، خاص طور پر اسکول کے طلبا، کا نہ صرف علمی معیار بلند ہو بلکہ ایک سائنسی ماحول بنے جو رفتہ رفتہ پاکستان میں ایک سائنسی کلچر کے فروغ کا باعث بنے۔
جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں ذکر کیا، میرے نزدیک پاکستان کا اہم ترین مسئلہ ملک کے ہر بچے کو پہلی جماعت سے میٹرک تک وہ تعلیم فراہم کرنا ہے جو آج صرف اشرافیہ کی اولاد کو میسر ہے۔
اس مضمون میں میں کچھ ایسی تجاویز پر بات کروں گا جن پر عملدرآمد سے پاکستانی بچے محدود وسائل کے ساتھ بہترین تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے کہ میں یہ تجاویز پیش کروں، مناسب ہو گا کہ اس راہ میں موجود گھمبیر مسائل پر روشنی ڈالی جائے۔
سب سے پہلا مسئلہ پاکستان میں تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے۔ سکولوں اور کالجوں کی اتنی کمی ہے کہ سکول اور طلباء کی تعداد کا تناسب خطر ناک حد تک نیچے ہے۔ لہٰذا سب سے ضروری اور سب سے اہم کام تو یہ ہے کہ پہلے تو مزید سکول اور کالج بنائے جائیں۔ جہاں کم سے کم پہلی جماعت سے میٹرک تک، تعلیم مُفت اور لازمی ہو۔ لیکن اس کے لیے بہت بڑے وسائل درکار ہیں۔
دوسرا مسئلہ اساتذہ کا معیار ہے۔ عمارات میسر آ جانے کے باوجود اگر استاد قابل نہیں تو پھر بھی تعلیم کا معیار بلند نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ایک بڑے فیصلے کی ضرورت ہے۔ پہلی جماعت سے لے کر میٹرک تک کے طلباء کو پڑھانے کے لئے تعلیم یافتہ، ہنر مند اور قابل اساتذہ کی ضرورت ہے۔ کُل آبادی کے لئے اس معاشرے سے پہلی جماعت سے میٹرک تک کے طلباء کے لئے، اتنی بڑی تعداد میں ایک مختصر مدت میں قابل اور تجربہ کار اساتذہ پیدا کرنا، جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔
اگلا مسئلہ تعلیمی نصاب کا ہے۔ ہمیں تمام جماعتوں کے لئے تمام مضامین پڑھانے کے لئے اعلٰی درجے کا نصاب چاہیے۔ اس وقت نصابی کُتب ہر صوبے کے متعلقہ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی زیرِ نگرانی لکھی جا رہی ہیں۔ عمومی طور پر یہ کُتب جو عام گورنمنٹ سکول کے طلباء کو میسر ہیں، اعلٰی معیار کی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کُتب ”او۔ لیول“ اور ”اے۔ لیول“ میں پڑھائی جانے والی کُتب کے مقابلے میں نہایت کم تر سطح پر ہیں۔ یہ ایک اور وجہ ہے جس سے ایک عام آدمی کے گورنمنٹ سکول میں پڑھنے والے اور اشرافیہ اور فیصلہ سازوں کے مخصوص اور مہنگے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی علمی استعداد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اور اس سے ایک معاشرتی تفاوت بھی پیدا ہو چکی ہے۔
کسی بھی تعلیمی پالیسی، چاہے وہ مختصر مدت کے لیے ہو یا ایک طویل مدت کا منصوبہ ہو، ان تین مسائل سے نبرد آزما ہوتا ضروری ہے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ ہماری تعلیمی پالیسی کے مقاصد کیا ہوں؟
سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ تعلیم کو ہر فرد کا بنیادی حق تسلیم کیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں شرح خواندگی دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں خطرناک حد تک کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے ہر بچے کو اعلی کوالٹی کی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ کسی بھی سیاسی مفاد سے بالاتر ایک قومی مقصد کا اعلان کیا جائے کہ جلد سے جلد، دو تین سالوں میں، یہ ٹارگٹ حاصل کیا جائے گا۔
ہماری تعلیمی پالیسی کی منزل یہ ہونی چاہیے کہ ایسے ذہن پیدا کریں جو شعور اور آزادی سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہماری آنے والی نسل ایسے طلباء پر مشتمل ہو جو جدید علم سے آراستہ، تخلیقی صلاحیتوں سے مزین، فیصلہ سازی اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں سے لبریز، کسی بھی خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طلباء کے ہم پلہ ہوں۔
اب اتنے بڑے بڑے مقاصد پر کام کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے کیسے مستفید ہُوا جائے؟ یہ کُچھ تجاویز ہیں جو یقیناً میرے علاوہ اور لوگ بھی سوچتے ہوں گے ۔
ہماری تعلیمی پالیسی کا بنیادی نقطہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم پہیے کو دوبارہ سے ایجاد کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مثال کے طور پر اوسط درجے کی نصابی کُتب بار بار لکھنے کی بجائے پہلے سے لکھی ہوئی وہ کتابیں اسکول کے نصابوں میں شامل کر لیں جو کامیاب تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً، اشرافیہ کے لئے مختص تعلیمی ادارے جہاں پر ’او۔ لیول‘ اور ’اے۔ لیول‘ کا نصاب نافذ ہے، انھوں نے بہترین کتب اپنا رکھی ہیں۔ ان کتابوں کا معیار بین الاقوامی ہے۔ ایک گاؤں میں بیٹھا کسان کا بیٹا اس معیارِ تعلیم سے محروم کیوں رہے جو اس بچے کو حاصل ہے جو پالیسی ساز کا بچہ ہے؟ ضروری بات تو یہ ہے کہ ان کتابوں کے اردو میں ترجمے کیے جائیں جو ہر طالب علم کی دسترس میں ہوں۔ اسکول میں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت پر بات اگلے مضمون میں ہو گی۔
اب رہا اساتذہ کا مسئلہ۔ یہاں پر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بہرہ مند ہوا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک تجویز پیش کرتا ہوں جس سے اساتذہ کا مسئلہ وقتی طور ہر حل کرنا ممکن ہو گا۔ سب سے پہلے تو ایسے اساتذہ کی ٹیم تیار کی جائے، جو پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک اپنے اپنے مضامین کے بہترین اساتذہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح کے تسلیم شدہ اساتذہ کو شامل کیا جائے اور ان کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ کلاس اول سے دہم تک ہر مضمون کے لیکچرز کی انتہائی اعلی کوالٹی کی وڈیوز تیار کریں۔ یہ وڈیوز ہر مضمون کی ٹیکسٹ بک سے مسابقت رکھتی ہوں۔ اگر یہ کام تسلی بخش انداز میں ہو جائے تو یہ ایک بہت ہی بڑا قدم ہو گا۔ سارے منصوبے کی اہم ترین کڑی یہ ہے کہ یہ سارے لیکچرز اعلی ترین سٹینڈرڈ کے ہوں۔ اس معاملے میں کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں۔
اگلا قدم یہ ہو گا کہ ان وڈیوز کے ذریعے ٹیلیویژن پر روزانہ کی بنیاد پر ہر کلاس کے لیکچرز کا اہتمام کیا جائے جو ملک کے کونے کونے میں ٹیلی کاسٹ ہوں۔ اس طور اصولی طور پر ملک کے بچے بچے کو اعلی تعلیم کے مواقع میسر آ جائیں گے۔ اس طور دُور دراز علاقوں میں موجود اُن سکولوں میں اچھی تعلیم کا انتظام ہو سکتا ہے جہاں عام طور پر یہ ممکن نہیں سمجھا جاتا۔ ان سکولوں میں اب استاد کا یہ کام ہو گا کہ ٹیلیوژن کے ذریعے لیکچرز کے دوران طلباء کو متوجہ رکھ سکیں اور ان کے سوالوں کا جواب دیے جا سکیں۔ لیکچرز کی وڈیوز اساتذہ اور طلبا کو یو ٹیوب یا کسی اور طریقے سے فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے فارغ اوقات میں ان سے استفادہ کر سکیں۔
سب سے مشکل کام یہ ہے کہ کم سے کم وقت اور نہایت کم بجٹ میں تمام بچوں کے لئے سکول کیسے بنائے جائیں۔ اس کے لئے کسی نہ کسی طرح پہلے سے موجود عمارات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ یہاں بھی کچھ تجاویز ہیں۔ پہلی بات وہی ہے جس کا نصف صدی سے پرچار ہے۔ اور وہ ہے مساجد کو تعلیم کے حصول کے لئے استعمال کرنا۔ یہ استعمال فجر کی نماز کے بعد اور ظہر کی نماز سے قبل تک ہو۔ عبادت کی جگہ کو علم کے حصول کے لئے استعمال کرنے سے بڑھ کر اور نیک کام کیا ہو گا۔
دوسری تجویز پر عمل درآمد کے لئے پورے مُلک کے خوشحال حضرات سے تعاون کی ضرورت ہے۔ تمام دیہات اور قصبات کے لوگوں سے التماس کیا جائے کہ وہ اپنے گھر کے ایک یا دو کمرے صبح سے سہ پہر تک تعلیم کے لئے مختص کر دیں۔ ان کمروں میں ٹیلیوژن کے ذریعے لیکچرز کا بندوبست کیا جائے۔ انہی دیہات یا قصبوں میں تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں کو استاد کے طور پر بھرتی کیا جائے۔ بہت سے مخیر افراد اس قسم کے اسکول انتہائی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملکی سطح پر اس کام کا بیڑا اٹھائے۔
یہ تو ایک ابتدائی سوچ ہے اور صرف خد و خال بیان کیے گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام تجاویز قابل عمل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی سطح پران سوچوں کو عملی شکل دینے کے لیے منصوبہ سازی کی جائے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ ایسے منصوبے کو تعلیمی پالیسی کا حصہ کیسے بنایا جائے؟ ایسی غیر روایتی باتوں کی مختلف حلقوں سے مزاحمت ہونا ایک لازمی امر ہے۔ اس مضمون میں کئی دیگر مسائل کا احاطہ یہاں نہیں کیا جا سکا مثلاً امتحانات کا نظام کیسا ہو۔ ان پر سوچ بچار کی ضرورت ہے۔
مگر اہم بات یہ ہے کہ ان تجاویز پر عمل پیرا ہو کر کم خرچے سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن یہ صرف ایک عارضی حل سمجھا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پروگرام کے ساتھ ایک ایسا ملک گیر پروگرام بھی لانچ کیا جائے جس کا مقصد ایک محدود مدت میں لاکھوں کی تعداد میں ہر سطح کے اساتذہ کی ٹریننگ اور ملک کے چپے چپے میں اسکولوں کا جال بچھانا ہو۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت ان تجاویز پر عمل کرنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی سطح کے تعلیم اور آئی ٹی کے ماہرین پر مشتمل ایک جماعت تشکیل دے جس کی یہ ذمے داری ہو کہ کلاس اول سے کلاس دہم تک ہر مضمون کی اعلی ترین معیار کی ویڈیوز تیار کی جائیں۔ یہ وڈیوز ایسی ہوں جو کسی بھی بچے میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کر سکیں، اور ان کو جدید تعلیم سے بہرہ ور کر سکیں۔ جیسے ہی یہ وڈیوز مکمل ہوں، پورے ملک میں ہر بچے تک ان وڈیوز اور ان سے وابستہ نصابی کتابیں پہنچانے اور تعلیم کا حصہ بنانے کا پروگرام ترتیب دیا جائے۔
اس سلسلے میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ حکومت پر چھوڑنے کی بجائے کوئی متعلقہ ادارہ اس ذمہ داری کو نبھائے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز، جس سے ملک کے ممتاز ترین ماہر تعلیم وابستہ ہیں، ان تجاویز کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور اگر ان کو مناسب تصور کریں تو ایک کمیٹی قائم کریں جو کلاس اول سے دہم کی ویڈیوز کی تیاری کی نگرانی کریں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کام اتنا مشکل نہ ہو۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایسے پروگرام اور کورسز کی ویڈیوز موجود ہوں۔
بس ان کو اردو زبان میں اور پاکستانی پس منظر میں ڈھالنا اور کاپی رائٹس جیسے مسائل کو حل کرنا ہو۔ اس کے لئے حکومت سے ایک خطیر رقم کی گرانٹ کی ضرورت ہو گی۔ اگر پاکستان اکیڈمی آف سائنسز دلچسپی لے کر ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ اس بنیاد پر ملک کے ہر بچے تک آئندہ دو تین سالوں میں علم کی روشنی پہنچائے۔
ایک تعلیمی انقلاب کی طرف یہ پہلا مگر بہت جاندار قدم ہو گا۔
ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔
عورت اور معاشرہ
بیٹیوں کو اتنا بااختیار بنائیں کہ وہ پسندیدہ لباس خریدتے وقت اور ریسٹورنٹ میں بل آتے ہی نظریں نہ جھکائیں، بلکہ فخر سے ادا کریں۔
وہ معاشرہ جو خواتین کو تعلیم نہیں دیتا ایک ایسے پہلوان کی طرح ہے جو اپنی ہی ایک بازو پیچھے باندھ کر لڑنے کی کوشش کرے۔
سی سی ڈی اور پنجاب
سی سی ڈی کی آجکل پنجاب اور ملک بھر میں دھوم مچی ہوئی ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ کوئی بہت قابلِ ستائش بات نہیں بلکہ یہ اصل مسئلے کے اوپر میک اپ کرنے کے مترادف ہے اور میک اپ بھی سستا والا جو زیرِ تہہ موجود مسئلے کو مزید خراب کرے گا۔
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ سی سی ڈی بنانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ سب جانتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری عدالتیں مناسب وقت میں فیصلے کرنے پر یا تو آمادہ نہیں یا پھر ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔
تو ایسا کیوں ہے؟ ججز کم ہیں؟ تو ان کو بھرتی کرنا اس کا ایک اصل اور دیرپا حل ہوتا۔ ججز کرپٹ ہیں؟ تو ان کا احتساب کرنا بہتر تھا اور اگر کورٹ پروسس سلو ہونے کی وجہ قانونی پیچیدگیاں ہیں تو بھی ان کا حل قانونی اصلاحات کے ذریعے کیا جانا تھا۔ جو کہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے۔
لیکن حکومت بجائے دیرپا اور اصل حل کہ ہمیں سستا، وقتی اور سب سے بڑھ کر نمائشی حل دے رہی ہے۔ ظاہر ہے وزیر اعلیٰ صاحبہ جانتی ہیں کہ عدالتی فیصلے انہوں نے تیز کروا بھی دیے تو اس کا کریڈٹ انھیں چند پڑھے لکھے لوگ دیں گے یا جن کے کیسز پھسے ہوئے ہیں۔ عام عوام اور میڈیا تو اس پہ خاص توجہ نہیں دے گا جبکہ جب جب "نیفے" میں پستول چلے گی تب تب سوشل میڈیا اور ٹی وی میڈیا سنسنی کی غرض سے یہ خبریں دے گا۔
سی سی ڈی کے ہمیں لانگ ٹرم میں نقصانات ہونگے جیسے:
1. عدالتوں کا مزید سست ہوجانا، جب عدالتوں کو پتا ہے کہ یہ کام ہورہا ہے تو آپ کو کیا لگتا ہے وہ کوئی بہتر طریقے سے کام کریں گی؟ نہیں وہ مزید سست ہوجائیں گی۔
2. انسانی حقوق کی خلاف ورزی، اب تک تو سی سی ڈی کا پھر بھی ایک معیار رہا ہے کہ جس کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی صرف اس کے ساتھ ہی یہ کام کیا جاتا تھا لیکن ہمارے ملک میں تو لکھے ہوئے آئین و قانون کو کاغذ کا ٹکڑا کہہ دیا جاتا تو ان کا یہ معیار تو کسی کاغذ پر بھی نہیں لکھا ہوا یہ کب تک قائم رہے گا؟ خدا جانتا ہے۔
3. ہم جانتے ہیں ایسے "انکاؤنٹر اسپیشلسٹ" پہلے بھی سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، کیا یہ بعید از امکان و قیاس ہے کہ یہ ادارہ بھی ایسے استعمال نہیں ہوگا؟
4. چوتھا اور سب سے اہم پوائنٹ یہ کہ ایسی سزائیں آئینِ پاکستان کے منافی ہے جو کہ اس فیڈریشن کی بنیاد ہے۔ ایسے عوامل اس کو مزید بےوقعت کریں گے۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ حکومت نے اب کرائم سے بھی ڈیل کرنے میں وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے جو وہ معاشی معاملات میں دہائیوں سے کرتے ہیں۔ وقتی ریلیف کے لیے لانگ ٹرم نقصان اور نمائشی معاشی اصلاحات جو کہ ان کی مقبولیت میں اضافہ کرے بجائے اس کے کہ جو اداروں اور نظام کو مضبوط کرے۔
Absurd
To describe all its effect would be to chronicle half the history of the modern mind. Erasmus, in the ecstacy of his sales, called printing the greatest of all discoveries, but perhaps he underestimated speech, fire, the wheel, agriculture, writing, law, even the lowly common noun.
Durant
اگر آدھے لوگ یہ سیکھ لیں کہ اُنہیں دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، تو باقی آدھے لوگ سکون سے زندگی گزار سکیں گے.!!!