سچ تو یہ ہے کہ میں پارساؤں کی طرح تمہیں برا بھلا بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس لیے نہیں کہ میں بہت نیک ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں جھوٹا نہیں ہوں۔
جو لوگ دن کے وقت تم پر لعنت بھیجتے تھے، وہی رات کے اندھیروں میں تمہیں پوری بےشرمی سے دیکھتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں نفرت نہیں تھی، خواہش تھی اور وہ خواہش اتنی ننگی تھی کہ کسی پردے کی محتاج نہ تھی۔ تنہائی میں تمہاری ننگی پنڈلیوں، تمہاری چھاتیوں کے ابھار اور تمہارے وجود کو حرص بھری نظروں سے تاڑتے، پھر اپنی ہی خواہش کے اسیر ہو جاتے، اور دن کے اُجالے میں تمہیں کوسنا اپنا حق سمجھتے تھے۔
بےحیا، فحش، بےراہ رو، طوائف، نہ جانے کن کن القاب سے وہ تمہیں پکارتے اور ذلیل کرتے رہے۔
میں ان میں سے نہیں۔
میں تمہیں اس لیے معاف نہیں کر رہا کہ تم بے قصور ہو، بلکہ اس لیے کہ میں خود بھی قصوروار ہوں۔ میں جبلت کے تحت سرزد ہونے والی کسی خطا پر، خواہ وہ تمہارا فیصلہ ہو یا محض نادانی، تمہیں زد و کوب نہیں کر سکتا، اس لیے کہ میں نے بھی خواہش کو نام دیا ہے۔ میں نے بھی تنہائی میں اپنے سچ کا سامنا کیا ہے، اور کبھی ذہن کے اندھیروں میں کسی لمس کی شدت کو ابھرتے دیکھا ہے۔ میں وہی ہوں جس نے کبھی کسی کے ساتھ جنسیت کا خواب دیکھا تھا۔
سچ یہ ہے کہ میں بھی خطا کا پتلا ہوں۔
اسی لیے میں دل کی گہرائی سے یہ کہتا ہوں کہ تم آج بھی اتنی ہی خوب صورت ہو، جتنی کبھی پہلے تھی۔
بقولِ غالبؔ
میں نے مجنوںؔ پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا