عورت خود مختار ہے یا نہیں؟
عورت خود مختار ہے یا نہیں؟
سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں کے عورت کو خودمختار بنانے کی ضرورت کب محسوس ہوئی؟؟
تو میرے نظریے سے عورت خودمختار تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ کیونکہ ایک مرد کو اس دنیا میں لانے والی ایک عورت ہی ہے۔ بس کچھ انا پرست اور غرور سے چور مرد عورتوں کی خودمختاری کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن دراصل انکو ڈر ہوتا ہے کہ کہیں عورت ہم سے آگے نا نکل جائے۔ اگر ہم بات کریں عورت کی خودمختاری کی تو ہم پیچھے چلتے ہیں1947ء میں جہاں عورت مرد کے شانہ بہ شانہ کھڑی تھی۔ میرا ایسا نظریہ کیوں ہے میں اسکی وجہ بھی بیان کرتی ہوں۔ اگر ہم مزہبی نظریے سے دیکھیں تو 1400 سال پیچھے چلے جائیں بعد از اسلام میں جہاں حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا خود مختار خاتون تھیں۔ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللّٰہ عنہا ایک خودمختار خاتون تھیں۔ نیز اس دور کی ہر عورت ہی خودمختار تھی۔ اب آ جائیں واپس اس دور سے تو بات کرتے ہیں شاہی ادوار کی تو کوسم سلطان وہ بھی عورت تھی جس نے عثمانی سلطنت سنبھالی۔ مزید دیکھا جائے تو عورت نے ہمیشہ مرد کا ساتھ دیاہے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر۔ اب آتے ہیں دوسرے نظریوں کی طرف تو دوسرے نظریوں میں عورت کو خودمختار بنانے کی ضرورت تب محسوس ہوئی جب مردوں کے ہاتھوں تمام فیصلے ہونے لگے اور عورتوں کو صرف چار دیواری تک محدود کر دیا گیا۔ جب مرد عورت کو خود سے کم تر سمجھنے لگا اور عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھنے لگا۔ تب شدت سے سے عورت کو خودمختار بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ اسکی اہمیت دبتی چلی جا رہی تھی۔ اگر ہم قدیمی قبائل کی بات کریں تو اس میں عورتیں مردوں کے ساتھ برابری کا کام کیا کرتی تھیں۔ جہاں مرد اور عورت کو برابر کے حقوق حاصل تھے۔ لیکن زرعی انقلاب کے بعد عورت کو صرف گھر، بچے پیدا کرنے اور مرد کی اطاعت کرنے تک محدود کر دیا گیا۔ کیونکہ مرد کی جسمانی طاقت جیت گئی اور اس طرح عورت کی حیثیت کمزور ہوگئی اور اسکی خودمختاری کہیں اندر ہی دب کر رہ
گئی۔
کچھ نظریوں میں عورت کبھی خودمختار نہیں رہی۔ اسکو ہمیشہ دبا کر رکھا گیا۔ اسکو شروع سے یہی بتایا گیا کہ تم صرف چپ رہنے کے لیے ہو اور مرد کی سننے کے لیے ہو۔ اسکی تربیت کی ایسی کی جاتی کہ وہ اپنے لیے خودمختار ہونا تو دور کی بات ہے اپنے لیے کوئی فیصلہ بھی نہیں کے سکتی تھی ۔جب یہ چیز زیادہ ہونے لگی تو تب اس آواز نے طاقت پکڑنا شروع کی کے عورت کا خودمختار ہونا ضروری ہے ۔
اب آتے ہیں دوسرے سوال کی طرف کہ معاشرے پدر شاہی نظام اور مادر شاہی نظام میں کیوں تقسیم ہوئے؟ تو اسکا جواب بہت سادہ اور آسان ہے۔ معاشرے ان دو نظاموں میں اس لیے تقسیم ہوئے کیونکہ پدر شاہی نظام باپ سے منسوب ہے جسکا مطلب کہ مرد حفاظت کرتا ہے ، جنگیں لڑتا ہے باہر کے نظام دیکھتا ہے جبکہ مادر شاہی نظام ماں سے منسوب ہے جسکا مطلب عورت کا بچے کو پیدا کرنا ، اسکی تربیت کرنا اور گھر کا نظام دیکھنا۔ مختصراً یہ کہ مرد باہر کی دنیا کا حکمران ہے اور عورت گھر کے اندر موجود لوگوں کی حکمران ہے۔ کیونکہ کہ گھر کو چلانا اسکو دیکھنا سب عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
اب آتے ہیں ہم اپنے آج کے آخری سوال کی طرف کے سب سے پہلے یہ اصطلاحات کب استعمال ہوئیں؟ تو اسکا جائزہ لینا تھوڑا مشکل ہے لیکن کچھ روایات میں آیا ہے کہ پدر شاہی ایک یونانی لفظ ہے اور اسکا باقاعدہ علمی استعمال 17ویں صدی میں ہوا۔ جبکہ سماجی و فلسفیانہ پہلوؤں میں دیکھیں تو 19ویں صدی میں ہوا۔ مادر شاہی کو John Jakob Bachofen نے پہلی بار منظم طور پر 1861ء میں اپنی کتاب Das Mutterrecht یعنی Mother Right میں استعمال کیا۔
ازقلم: عائزہ طاہر


