ایک اور رات شبِ خوابی کے نام از قلم نورالعین
ایک اور رات شبِ خوابی کے نام از قلم نورالعین
اے شبِ خوابی!
تو پھر سے آ گئی....
خاموشی کی چادر اوڑھے،
دل کے سنسان راستوں پر اپنے سائے بکھیرتی،
یادوں کے قافلے لیے
آنکھوں کی نیند چرا کر۔۔۔۔
کیا لینے آئی ہے اب کی بار؟
کیا پھر کوئی پرانا خواب ٹوٹے گا؟
یا کوئی نیا سپنا ، امید کی دہلیز پر سر رکھ کر سو جائے گا؟
تو ہر رات کی طرح آج بھی بہت خوبصورت ہے،
مگر یہ خوبصورتی ، دل کو اور بھی تنہا کر دیتی ہے۔
کبھی سوچا ہے؟ تو فقط رات نہیں،
کئی دلوں کا ملال ، ادھورے جذبے ،
اور بے آواز چیخوں کی ہم راز ہے۔
تو آتی ہے ، اور ساتھ لاتی ہے خاموشی ،
جس میں صدا صرف اندر کی ہوتی ہے ۔
، اے شبِ خوابی
کاش تو کبھی خوابوں کو حقیقتوں کی چادر اوڑھا دے۔
اور دلوں کے بوجھ کو اپنے ساتھ لے جائے۔
مگر..... تو تو فقط رات ہے.....
چلی جائے گی..... اور ہم ؟
ہم کل کی نئی صبح کے انتظار میں ایک اور
ادھورا خواب لیے جاگتے رہ جائیں گے۔
✨❤️🔥🥀



